.

حلب کی تباہی، شامی خاتون اول کی شفقت شدید برہمی کا سبب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامیوں کی ایک بڑی تعداد نے اُس تصویر پر اپنے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے جس سے شامی حکومت کی خودنمائی واضح طور پر جھلک رہی ہے۔ بالخصوص ایسے وقت میں جب کہ بشار الاسد کی اپنے عوام کے خلاف جنگ میں پانچ لاکھ کے قریب افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں اور ایسے وقت میں جب کہ بشار کی فوجیں حلب شہر کو بمباری اور تباہی کا نشانہ بنا رہی ہیں۔

شامی حکومت کی جانب سے بشار الاسد کے فیس بک پیج پر شامی صدر کی اہلیہ کی ایک تصویر نشر کی گئی ہے۔ تصویر میں خاتون اوّل حلب شہر سے آئے ہوئے ایک فوجی کے زخم کو "ہاتھ سے چُھو کر شفقت کا اظہار" کر رہی ہیں۔

تصویر کے حوالے سے بہت سے تمسخر اڑانے والے تبصرے بھی سامنے آئے ہیں۔ ایک تبصرے میں کہا گیا ہے کہ "شفقت سے بھرپور لمس قصاب کی چُھری کے اثرات مٹانے کے لیے کافی ہو گی"۔

ہفتے کے روز جاری کی گئی تصویر میں حلب شہر سے تعلق رکھنے والا بشار الاسد کا زخمی حامی "فادی" اور اس کا باپ نظر آرہے ہیں۔ تصویر نے سوشل میڈیا پر سرگرم کارکنان میں غیض و غضب اور برہمی کی لہر دوڑا دی۔ حلب وہ شہر ہے جس کے لیے بشار الاسد ، اس کی فرقہ وارانہ ملیشیاؤں ، ایرانی پاسداران انقلاب ، لبنانی تنظیم حزب اللہ کے ارکان سب نے خود کو فارغ کر لیا ہے اور بھرپور طریقے سے قتل ، تباہی و بربادی ، گرفتاری اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں مصروف عمل ہیں۔

تصویر پر کیے جانے والے تبصروں کے مطابق اس "غیرمسبوق انسانی لمس" کے ذریعے اس حقیقت کو چھپایا نہیں جا سکتا کہ " آل اسد نے شام کو تباہ اور اس کے عوام کو قتل کیا ".. اس "جادوئی" لمس سے پہلے اور بعد بھی بشار الاسد "جنگی مجرم" ہی رہے گا جس کو "خدائی یا انسانی عدالت" جلد یا بدیر اپنی گرفت میں لے گی۔