حلب کے جنوب مغرب میں شامی فوج کی جوابی کارروائی، باغیوں کا حملہ پسپا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام کے شمال مغربی شہر حلب میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج اور باغی گروپوں کے درمیان گھمسان کی لڑائی جاری ہے اور سرکاری فوج نے سوموار کے روز شہر کے جنوب مغربی حصے میں باغیوں کی پیش قدمی روک دی ہے اور انھیں گذشتہ روز قبضے میں لیے گئے اپنے ٹھکانوں سے بھی پسپا ہونے پر مجبور کردیا ہے۔

باغی جنگجوؤں نے اتوار کے روز حلب کے جنوب مغرب میں واقع ایک سیمنٹ فیکٹری میں فوج کی پوزیشنوں کو نشانہ بنایا تھا اور ان پر قبضہ کر لیا تھا لیکن حزب اختلاف کے کارکنان اور جنگجوؤں کی ویب سائٹس نے آج بتایا ہے کہ مزاحمت کار حکومت کے ایک جوابی حملے کے بعد پسپا ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

شامی فوج کی اس پیش قدمی کی بڑی وجہ روس کے لڑاکا طیاروں کی باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر تباہ کن بمباری ہے۔ان فضائی حملوں میں پیش قدمی کرنے والے باغیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔روسی طیارے حلب کے علاوہ باغیوں کے زیر قبضہ نزدیکی صوبے ادلب میں بھی حملے کررہے ہیں۔

درایں اثناء روس کی ریا نیوز ایجنسی نے وزیر دفاع سرگئی شوئیگو کے حوالے سے بتایا ہے کہ روس اور امریکا شامی شہر حلب میں جنگجوؤں کے خلاف مشترکہ کارروائی کے لیے اتفاق رائے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

روسی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ ''ہم اپنے امریکی ساتھیوں سے مذاکرات کے ایک فعال مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں۔ہم مرحلہ در مرحلہ ایک منصوبے کے نزدیک پہنچ رہے ہیں اور میں یہاں صرف حلب کی بات کررہا ہوں۔اس کے تحت ہم مشترکہ طور پر لڑائی کا آغاز کرسکیں گے تا کہ وہاں امن قائم کیا جا سکے اور لوگ اس شورش زدہ سرزمین پر اپنے گھروں کو لوٹ سکیں''۔

دوسری جانب روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے یہ شکایت کی ہے کہ شامی جنگجو حلب اور اس کے نواح میں عارضی جنگ بندی کے وقفے کو دوبارہ صف بندی اور مسلح ہونے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔

لاروف روسی شہر یکترنبرگ میں اپنے جرمن ہم منصب فرینک والٹر اسٹینمیئر کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ انھیں اس بات کا ادراک ہے کہ حلب میں امدادی سامان پہنچانے اور وہاں سے شہریوں کے انخلاء کے لیے روزانہ تین گھنٹے کے لیے جنگ بندی کا وقفہ ناکافی ہے لیکن فی الوقت اس دورانیے کو بڑھانا ممکن نہیں ہے کیونکہ اس طرح جنگجوؤں کے دوبارہ مجتمع ہونے اور مسلح ہونے کا خدشہ ہے اور وہ ماضی میں جنگ بندی کے دوران ایسا ہی کرتے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں