"عمران" کے والد نے اپنی شناخت کیوں نہیں ظاہر کی ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اگرچہ پوری دنیا شامی بچے عمران دقنیش کے بارے میں بات کر رہی ہے تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ شامی طیاروں کی جانب سے عمران کے گھر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد ملبے کے نیچے سے نکالے جانے والے اس گھرانے کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں۔ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب حلب کے علاقے القاطرجی میں ہونے والے حملے میں زخمی ہوجانے والا عمران کا بڑا بھائی 10 سالہ علی ہفتے کے روز ہسپتال میں دم توڑ گیا۔

برطانوی اخبار " انڈیپینڈینٹ" سے مختصر گفتگو میں غمگین باپ نے اس خوف و دہشت کے بارے میں چند ہی الفاظ کہے جس کا اس نے سامنا کیا۔

عمران کے باپ نے اپنا نام بتانے سے انکار کرتے ہوئے زور دیا کہ اسے " ابو علی" کے نام سے ہی پکارا جائے۔ ابو علی کو خوف ہے کہ شامی حکومت اس سے اور اس کے گھر والوں کے خلاف انتقامی کارروائی نہ کرے بالخصوص جب کہ اس کا گھرانہ اتفاقا پہلے ہی شامی حکومت کے وحشیانہ پن اور خون ریزی کی علامت بن چکا ہے اور اس کا بیٹا عمران حملے کی رات اور اس کا شکار ہونے والوں کے درمیان "شامی جنگ کی خصوصی علامت" بن گیا ہے۔

ابو علی کے مطابق گھر پر میزائل گرنے کے وقت وہ عمران اور اپنے بچوں کے ساتھ لاؤنج میں بیٹھا تھا۔

ابو علی نے مزید بتایا کہ " یہ انتہائی تکلیف دہ چیز ہے کہ آپ اپنے بچوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے مرتا دیکھیں"۔ ابو علی کا کہنا تھا کہ اس نے عمران کو ملبے کے درمیان پایا اس کے بعد ایک اور بیٹا مل گیا اور پھر طبی معاونین نے ان کو نکال لیا۔

یاد رہے کہ دقنیش خاندان کے تمام افراد کو ملبے کے نیچے سے زندہ نکال لیا گیا تھا تاہم ان میں ایک بچہ علی ہفتے کے روز دنیا سے رخصت ہو گیا۔

جمعرات کے روز سوشل میڈیا پر اس گھرانے کے ایک بچے عمران کی تصاویر گردش میں آ گئیں جو اس الم ناک لمحے کی تصدیق کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ وڈیو کلپس بھی منظرعام پر آئے ہیں جن میں عمران ایک ایمبولینس کے اندر نشست پر بیٹھا نظر آرہا ہے جب کہ اس کا جسم گرد و غبار سے اٹا ہوا ہے اور اس کے چہرے پر خون ہی خون ہے۔ عمران دم بخود لگ رہا ہے اور اس نے زبان سے ایک لفظ نہیں بولا۔ وہ اپنے چھوٹے سے ہاتھ سے پیشانی سے خون ہٹا کر اپنی نشست سے صاف کر لیتا ہے۔

حلب سے تعلق رکھنے والے اس شامی بچے کی تصاویر عالمی اخبارات کے پہلے صفحات اور دنیا بھر میں نیوز بلیٹنز میں سرفہرست نظر آئیں۔ واشنگٹن کے مطابق یہ تصاویر مارچ 2011 سے شام میں جاری "جنگ کا حقیقی چہرہ" پیش کر رہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں