ایران : تختہ دار سزائے موت کے 4500 ملزمان کا منتظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی پارلیمنٹ کے ایک رکن نے اتوار کے روز انکشاف کیا ہے کہ ان کے ملک میں عدالتوں نے 4500 افراد کے خلاف سزائے موت کا پروانہ جاری کر رکھا ہے۔ جیلوں میں سڑنے والے ان افراد کو " پراسرار انجام" کا سامنا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ میں امور عدلیہ کی کمیٹی کے رکن روح اللہ پور کا کہنا ہے کہ ان کے ملک کی عدلیہ پر لازم ہے کہ وہ ان افراد کے انجام کا فیصلہ کرے جن کو بہت پہلے سزائے موت دینے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے۔

صدر حسن روحانی کے منصب صدارت پر پہنچنے کے بعد سزائے موت پر عمل درامد میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے اور ایران اس حوالے سے دنیا بھر میں پہلے نمبر پر آ چکا ہے۔

ایرانی ذمہ دار نے ان افراد پر عائد الزامات کا ذکر نہیں کیا جن کے خلاف سزائے موت کے فیصلے جاری ہوچکے ہیں۔ تاہم ایران کے بارے میں یہ بات معروف ہے کہ وہ "قومی سلامتی میں خلل ڈالنے" اور "لڑائی" کے الزامات کے تحت اپنے مخالفین کو موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔

انسانی حقوق سے متعلق عالمی تنظیمیں ایران میں پھانسی کی دیے جانے کی تعداد میں مسلسل اضافے کے سبب تہران کو شدید تنقید کا نشانہ بناتی ہیں۔ تاہم یہ سب بے فائدہ رہ جاتا ہے اور ایرانی عدلیہ کے حکام سزائے موت پر یومیہ عمل درامد کے حوالے سے اصرار کرتے رہتے ہیں۔

رواں ماہ اگست میں ایران نے ملک کے مخلتف علاقوں میں 30 سے زیادہ افراد کو موت کے گھاٹ اتارا۔ ان افراد میں سنی کُردوں کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں