.

حلب: شامی فوج اور مسلح باغیوں کے کاستیلو روڈ سے انخلاء میں تاخیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا اور روس کے درمیان شام کے لیے طے شدہ جنگ بندی سمجھوتے کے تحت شمالی شہر حلب کی جانب جانے والی کاستیلو روڈ سے شامی فوج اور باغی جنگجوؤں کا ابھی تک انخلاء شروع نہیں ہوا ہے جس کی وجہ سے شہر کے محصور مکینوں تک امدادی سامان نہیں پہنچایا جاسکا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ طرفین کاستیلو روڈ سے بیک وقت انخلاء چاہتے ہیں۔روس نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ شامی فوج اور باغی جنگجوؤں کے اس شاہراہ سے مرحلہ وار آغاز کی تیاری کررہا ہے۔

رامی عبدالرحمان نے شام میں موجود اپنے نیٹ ورک کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ ''اسد رجیم تو انخلاء کے لیے تیار ہے لیکن شامی فوج اس وقت تک (کاستیلو روڈ سے) کوئی نقل وحرکت نہیں کرے گی جب تک حزب اختلاف کا وہاں سے انخلاء نہیں ہوجاتا''۔

حلب میں باغیوں کے ایک سینیر عہدے دار کا کہنا ہے کہ ''باغی دھڑوں کے کاستیلو روڈ سے پیچھے ہٹنے کے بارے میں غوروخوض جاری ہے کیونکہ سمجھوتے میں یہ کہا گیا ہے کہ شامی حکومت کو جنگ بندی کا احترام کرنا چاہیے لیکن ایسا نہیں ہوا ہے''۔

اس باغی عہدے دار کا کہنا تھا کہ ''گذشتہ روز ہی کاستیلو روڈ کے نواحی علاقوں کو حملے میں ہدف بنایا گیا ہے۔شام کے سرکاری میڈیا یا فوج کی جانب سے مجوزہ انخلاء کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔شامی فوج کے ایک ذریعے نے بدھ کو کہا تھا کہ مسلح گروپوں نے گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران پندرہ مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔

واضح رہے کہ جنگ بندی سمجھوتے کی دو شقوں کے تحت شامی فورسز کو اپنے اہلکاروں ،بھاری ہتھیاروں اور دوسرے اسلحہ کو کاستیلو روڈ کے مختلف مقامات سے پیچھے ہٹانا ہوگا۔بعض جگہوں سے ٹینکوں ،توپ خانے اور مارٹروں کو کم سے کم ساڑھے تین کلومیٹر یا دو میل سے زیادہ فاصلے تک پیچھے ہٹانا ہوگا۔نیز ہلکے ہتھیاروں والے فوجیوں کو پانچ سو گز تک پیچھے ہٹنا ہوگا۔

حزب اختلاف کی فورسز کو بھی سرکاری فوج کی طرح کاستیلو روڈ سے مشرقی جانب پیچھے ہٹںا ہوگا لیکن ان کے انخلاء کا انحصار کرد فورسز کی واپسی پر ہوگا۔اگر کرد جنگجو 500 گز پیچھے ہٹتے ہیں تو حزب اختلاف کی فورسز کو بھی اسی طرح اتنے فاصلے تک پیچھے ہٹںا ہو گا۔