.

اردن : امام بارگاہیں تعمیر کرنے کی ایرانی درخواست مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی ذمہ داران اردن سے کئی مرتبہ یہ مطالبہ کر چکے ہیں کہ شیعوں کے لیے امام بارگاہیں بنانے کی اجازت دی جائے اور ملک میں مذہبی سیاحت (زیارت) کا دروازہ کھولا جائے تاہم ایران کو ہمیشہ منہ کی کھانی پڑی۔ ایران کے فرقہ وارانہ آگ بھڑکانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہونے کی مذمت کے طور پر اردن نے کبھی ایران کی درخواست کو اہمیت نہ دی۔

معروف صحابی حضرت جعفر بن ابو طالب رضی اللہ عنہ جو جنگ مؤتہ کے سپہ سالاروں میں سے ہیں ، ان کا مزار اردن کے دارالحکومت عمان سے 140 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس کے علاوہ اردن میں مذہبی زیارت کے دیگر مقامات شیعہ مسلک کے پیروکاروں بالخصوص ایران کے لیے بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔

2013 میں الکرک شہر میں مقامی نوجوانوں کی جانب سے شیعوں کے زیرانتظام ایک عمارت کو آگ لگا دی گئی تھی۔ مذکورہ افراد علاقے میں اس عمارت کی تعمیر اور وہاں (مقیمین یا زائرین) شیعوں کی موجودگی پر احتجاج کر رہے تھے۔

ادھر اردن کے سابق وزیر برائے اوقاف اور اسلامی مقامات محمد نوح نے مقامی روزنامے الرای سے گفتگو میں زور دیا کہ معاشرے کو ایسے مقامات کی تعمیرات سے مامون کیا جائے جہاں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی ناموس کو نقصان پہنچایا جاتا ہو۔

اردن کے صوبے کرک میں صحابہ رسول حضرت زيد بن حارثہ ، حضرت عبد الله بن رواحہ اور حضرت جعفر بن ابو طالب رضی اللہ عنہم کے مزارات ہیں جب کہ ملک کے مخلتف حصوں میں صحابہ کرام کے درجنوں مزارات اور متعلقہ مقامات موجود ہیں۔