.

سعودی سفارت خانے پر حملہ گرین سگنل ملنے پر کیا : ماسٹر مائنڈ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

رواں ماہ کے آغاز میں تہران میں سعودی سفارت خانے پر حملے اور اس کو نذر آتش کرنے کے منصوبہ ساز نے اعتراف کر لیا ہے کہ تمام تر کارروائی ایرانی حکومت اور نظام کی قیادت کی طرف سے گرین سگنل ملنے کے بعد عمل میں آئی۔

ایران میں اپوزیشن تحریک "گرین موومنٹ" کے نزدیکی ذرائع نے کی جانب سے افشا کی جانے والی ایک آڈیو ٹیپ میں حملے کے ماسٹر مائنڈ سخت گیر مذہبی شخصیت حسن کرد میہن کے مکالمے سامنے آئے ہیں جن میں وہ باسیج اور پاسداران انقلاب کی ملیشیاؤں کے ارکان کو سعودی سفارت خانے کو آگ لگانے اور وہاں موجود تمام دستاویزات کو قبضے میں لینے کی ہدایات دے رہا ہے۔

ایک مکالمے میں میہن اپنے چیلوں سے کہہ رہا ہے کہ " یہ حملہ حکومت اور نظام کے گرین سگنل کے ساتھ کیا گیا اسی واسطے داخلہ سکیورٹی کی فورس نے سفارت خانے پر دھاوا بول دینے کا موقع دیا اور وہ حرکت میں نہیں آئی"۔

خبروں کی ویب سائٹ " آمد نیوز" کے چینل پر "ٹیلی گرام" ایپلی کیشن کے ذریعے نشر کی جانے والی اس آڈیو ٹیپ سے واضح ہوتا ہے کہ کرد میہن بعض مکالموں میں ادارہ "نور معرفت" کے ارکان سے مخاطب ہے۔ کرد میہن ایران میں اس معورف پریشر گروپ کا سربراہ ہے۔

حکومتی ساز باز

حسين كرد ميہن سعودی سفارت خانے پر حملے کی منصوبہ بندی اور باسیج اور پاسداران انقلاب کے "حزب اللہ کے انقلابی فرزندان" کو اکسانے کا اعتراف کر چکے ہیں۔ میہن نے رواں سال اگست میں ایرانی صدر حسن روحانی کے نام ایک کھلے خط میں حکومت کی جانب سے "ساز باز" پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ "حملے میں حکومت کی ملی بھگت بالکل واضح ہے۔ حکومت چاہتی تو دھاوا بولنے والوں کو روک سکتی تھی۔ حملہ آور نوجوان توقع کر رہے تھے کہ انہیں سکیورٹی فورسز اور پولیس کی جانب سے زدوکوب کیا جائے گا"۔

"انصاف نيوز" کی جانب سے خط کے جاری کیے گئے متن کے مطابق میہن نے تسلیم کیا کہ اس نے " ٹیلی گرام" ایپلی کیشن کے ذریعے اپنے عناصر کو احکامات جاری کیے جب کہ وہ خود شامی اپوزیشن کے خلاف لڑائی کے محاذوں پر پاسداران انقلاب کی صفوں میں موجود تھا۔ خط میں حملے کو روکنے کے لیے سکیورٹی فورسز کے تساہل کی جانب بھی اشارہ کیا گیا جس نے میہن کے قریبی عناصر کا حوصلہ بڑھا دیا۔

کرد میہن نے ایرانی صدر حسن روحانی کو ذاتی طور پر سفارت خانے پر دھاوے اور اس میں آگ لگائے جانے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ "اگر وہ قریب آنے سے روکنا چاہتے تو مظاہرین کو سفارت خانے سے کئی کلومیٹر دور روکا جاسکتا تھا مگر ایسا نہیں کیا گیا"۔

یاد رہے کہ ایران نے سفارت خانے پر حملے کے دو ہفتے بعد حسن كرد میہن کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم دو روز بعد ہی اس کی رہائی کا اعلان سامنے آ گیا.. جب کہ ذرائع کا کہنا ہے کہ میہن کی حراست یا گرفتاری سرے سے ہوئی نہیں۔


حسن کرد میہن کون ہے ؟


حسن کرد میہن کا تعلق تہران کے جنوب مغرب میں واقع شہر کرج میں "انصار حزب اللہ" ملیشیاؤں سے ہے۔ یہ گروپ ایرانی مرشد اعلیٰ علی خامنہ ای کے کافی نزدیک سمجھا جاتا ہے۔ یہ گروپ 2009 میں سبز تحریک کی جانب سے کیے جانے والے واحتجاجوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں بھی شریک تھا۔

میہن 2013 کے صدارتی انتخابات میں تہران کے حالیہ میئر محمد باقر قالیباف کی انتخابی مہم کے منتظمین میں سے بھی تھا۔

اس کے علاوہ حسن کرد میہن "نور معرفت" نامی ادارے سمیت ایرانی حکومت میں با اثر شخصیات کے نزدیک سمجھے جانے والے 9 دیگر اداروں کی سربراہی بھی کررہا تھا۔

میہن شام میں ایرانی پاسداران انقلاب کی صفوں میں شامل ہوکر لڑائی میں شریک ہو چکا ہے۔ وہ جوڈو کے کھیل کا کوچ بھی رہ چکا ہے۔ اس نے ایران اور شام کی جوڈو ٹیموں کی مشترکہ تربیت کی نگرانی کی۔


جعلی عدالتی کارروائیاں

یاد رہے کہ جعلی نوعیت کی قرار دی جانے والی متعدد عدالتی کارروائیوں کے بعد ایرانی حکام نے 19 نومبر کو اعلان کیا تھا کہ تہران کی عدالت نے سفارت خانے پر دھاوے اور آگ لگانے کے سلسلے میں تمام ملزمان پر عائد الزامات کو ختم کر دیا ہے۔

تہران میں سعودی سفارت خانے اور مشہد میں سعودی قونصل خانے پر حملے کے واقعات کے بعد ایران کو سعودی عرب اور خلیجی ممالک کی جانب سے شدید نوعیت کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑا تھا جس نے اس کو شدید دشوار صورت حال سے دورچار کر دیا۔ بالخصوص عرب ممالک کے بائی کاٹ اور اسلامی دنیا اور عالمی برادری کی جانب سے ان واقعات کی پر زور مذمت کے بعد ایران کی حالت کھسیانی بلی جیسی ہو گئی۔

سفارت خانے کے اندر توڑ پھوڑ کے مناظر