الحشد الشعبی ملیشیا کا العبادی سے شام میں داخلے کی اجازت کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے شہر موصل میں معرکے کے اختتام کا وقت قریب آنے کے ساتھ ہی پاپولر موبیلائزیشن ’’الحشد الشعبی‘‘ ملیشیا نے داعش کے تعاقب کے نام پر شام میں داخل ہونے کی باتیں شروع کر دی ہیں۔

اس سلسلے میں انصار المرجعیہ بریگیڈ نامی ملیشیا نے ایک بیان میں عراقی وزیراعظم حیدر العبادی سے مطالبہ کیا ہے کہ اُسے عراق اور شام کی سرحد پر نواحی دیہات میں داعش تنظیم کے خلاف لڑنے کے واسطے سرحد پار تیس کلومیٹر تک داخل ہونے کی اجازت دی جائے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سرحد پار سے آنے والے خطرات سے عراقی سرزمین کا دفاع کرنا ملیشیا کا فرض ہے۔

پاپولر موبیلائزیشن ملیشیا کی جانب سے شام میں داخل ہونے کا ارادہ کوئی نیا نہیں بلکہ اس مطالبے کو متعدد بار دُہرایا جا چکا ہے۔ اس حوالے سے یہ سوال اب بھی قائم ہے کہ عراق کے زیادہ تر علاقوں میں پھیلی ہوئی ایران نواز ملیشیاؤں پر کس طرح کنٹرول حاصل کیا جائے جن پر فرقہ واریت پھیلانے کا الزام ہے۔

عراقی حکومت کی جانب سے ملیشیاؤں کے مطالبے پر کوئی جواب سامنے نہیں آیا۔ تاہم وزیراعظم حید العبادی جو متعدد جانب سے اعتراضات کے باوجود بھی پاپولر موبیلائزیشن ملیشیا کو سرکاری مسلح افواج میں ضم کرنے کے حامی تھے.. انہوں نے ایک ماہ قبل اس عہد کا اظہار کیا تھا کہ کسی فریق کو عراقی سرحد سے آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے اس جانب اشارہ کیا تھا کہ فوج سرحد کو محفوظ بنانے کے واسطے کام کرے گی۔

مبصرین کے نزدیک انصار المرجعیہ ملیشیا کی جانب سے کیے جانے والے مطالبے کا مقصد محض العبادی کو تنگ کرنا ہے۔

عراق کے شہر موصل کے مغرب میں سرحد کے پھیلاؤ پر تقریبا 80 کلومیٹر تک پاپولر موبیلائزیشن کے زیر انتظام ملیشیاؤں کا کنٹرول ہے۔ اس دوران شام کے دو صوبوں دیر الزور اور الحسکہ میں مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ پاپولر موبیلائزیشن کے جنگجو پہلے ہی شامی اراضی میں داخل ہو کر ان متعدد دیہات پر قبضہ کر چکے ہیں جہاں سے داعش تنظیم کا انخلاء عمل میں آیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں