’اسرائیل القدس کوتسلیم کرانے کے لیے دوسرے ملکوں پردباؤ ڈال رہا ہے‘

ٹرمپ کے اقدام کے بعد امریکا دنیا میں تنہا ہوگیا: فلسطین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فلسطینی وزیرخارجہ ریاض المالکی نےکہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیلی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے بعد اسرائیل دوسرے ملکوں پر القدس کو صہیونی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کرانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق قاہرہ میں فلسطینی سفارت خانے میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں ریاض المالکی نے کہا کہ فلسطینی قوم نے کلی طورپر القدس بارے امریکی فیصلے کو مسترد کردیا ہے۔ المالکی نے ٹرمپ کے القدس بارے اقدام کو غیرقانونی، غیرآئینی، باطل، عالمی موقف اور امریکا کی روایتی پالیسی کے خلاف قرار دیا۔

انہوں نے کہاکہ امریکی اقدام القدس کی آئینی اور قانونی حیثیت تبدیل نہیں کرسکتا۔ القدس فلسطینی ریاست کا اٹوٹ انگ ہے۔ ٹرمپ کے اعلان سے القدس کے بیت المقدس کےآئینی اور مذہبی اسٹیٹس پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

ایک سوال کے جواب میں فلسطینی وزیرخارجہ نے کہا کہ امریکی صدر کے اقدام کے بعد اسرائیل دوسرے ملکوں پر القدس کو صہیونی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کرانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کے فیصلے کے بعد امریکی انتظامیہ خود پوری دنیا میں تنہا ہوگئی ہے۔

بعد ازاں قاہرہ میں عرب لیگ کے وزراء خارجہ اجلاس سے خطاب میں بھی انہوں نے امریکی صدر کے القدس بارے اعلان کو مسترد کردیا۔ المالکی کا کہنا تھاکہ فلسطین کے بغیر القدس اور القدس کے بغیر فلسطینی مملکت کا کوئی تصور نہیں۔ انہوں نے عرب ممالک اور اقوام عالم پر فلسطینیوں کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہونے پر زور دیا اور کہا کہ عالمی برادری آزاد فلسطینی ریاست کےقیام کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔

خیال رہے کہ چھ دسمبر کوامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیت المقدس کو اسرائیلی ریاست کا دارالحکومت قرار دیا اور تل ابیب سے امریکی سفارت خانے کی القدس منتقلی کا حکم دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں