.

’نا مناسب تصویر‘شامی اپوزیشن لیڈر کی قوم سے معذرت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی اپوزیشن کی جانب سے تشکیل دی گئی سپریم مذاکراتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر نصرالدین الحریری نے ایک ’نا مناسب تصویر‘ پر قوم سے معافی مانگی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شامی اپوزیشن کی طرف سے حال ہی میں ایک گروپ فوٹو جاری کیا گیا تھا جس میں انہیں اور دیگر اپوزیشن رہ نماؤں کو روسی وزیر خارجہ سیرگی لافروف کے ہمراہ دکھایا گیا تھا۔ اس تصویر میں وہ سب لوگ کسی بات پرمسکرا رہے ہے تھے۔ یہ تصویر’زخم رسیدہ‘ شامی عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا موجب بنی اور شول میڈیا پر اس پر کڑی تنقید کی گئی۔

خیال رہے کہ شام میں جاری تحریک انقلاب کو کچلنے اور فوجی طاقت کے ذریعے شام میں اسد رجیم کی رٹ بحال کرنے میں روس نے دمشق کی مدد کی۔ روس ہی کی مدد سے اسدی فوجی نے ملک میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا ہے۔ اس لیے اسد رجیم کے دوستوں کے ساتھ گروپ فوٹو تو مذاکرات کی مجبوری ہوسکتا ہے مگر ان کے ساتھ مل کر خوشی کا اظہار یمنی عوام کے زخم کریدنے کے مترادف ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹ پر کی جانے والے گروپ فوٹو پر اپوزیشن کارکنوں اور دیگر شہریوں نے کڑی تنقید کی اور حزب اختلاف کی سپریم کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر نصرالدین الحریری سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔

عوامی رد عمل کے بعد اپوزیشن رہ نما ڈاکٹر نصرالدین الحریری نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’اپوزیشن کونسل کے چیئرمین کی حیثیت سے میں ایک نا مناسب تصویر پرقوم سے معافی چاہتا ہوں۔ میرا خیال ہے گروپ فوٹو میں زیادہ تر مسکرانے والے ہمارے قضیے کے دفاع کے لیے مسکرا رہے تھے‘۔ بعد ازاں اپوزیشن نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے متنازع تصویر حذف کردی تھی۔

اپوزیشن رہ نما کی معذرت کے بعد لوگوں کا غصہ قدرے ٹھنڈہ پڑا ہے۔ تبصرہ نگاروں نے نصرالحریری کی طرف سے نا مناسب تصویر پر معذرت کو ان کی ’بہادری‘ سےتعبیر کیا ہے۔

اپوزیشن کی جانب سے ایک اور بیان میں بھی اس تصویر کی وضاحت کی گئی اور کہا گیا ہے کہ کسی تصویر میں مسکرانے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ روس کے ساتھ کوئی سمجھوتہ طے پاگیا ہے یا روسیوں کی مرضی کے مطابق چلنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ شام کے تنازع کے حوالے سے اپوزیشن اپنے موقف پر قاہم ہے۔ اس حوالے سے روسی موقف سے ہم آہنگی پیدا نہیں ہوسکتی ہے۔