.

شام: الغوطہ الشرقیہ پر آتش وآہن کی بارش، حکومت اور "النصرہ" کے بیچ سمجھوتے کا امکان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں بشار الاسد حکومت کی فوج نے الغوطہ الشرقیہ کے علاقے پر عسکری حملے کے لیے اپنی فورسز اور فوجی ساز وسامان جمع کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں شامی حکومت اور ہیئۃ تحریر الشام تنظیم (سابقہ جبہۃ النصرہ تنظیم) کے درمیان مذاکرات یا "سمجھوتے" کی بھی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ اس کا مقصد تنظیم کے جنگجوؤں کو نکل کر اِدلب کا رخ کرنے دینا ہے۔

الغوطہ الشرقیہ کا علاقہ 2013ء سے محصور ہے۔ شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق اتوار کی شام علاقے کو شدید فضائی بم باری اور گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے نتیجے میں 4 بچوں سمیت 14 افراد جاں بحق ہو گئے۔

شامی حکومت نے الغوطہ الشرقیہ پر سیکڑوں میزائل داغے۔ ٹوئیٹر پر جاری تصاویر میں الغوطہ کی فضاؤں میں آگ کے شعلے بلند ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

انسانی حقوق کی مانیٹرنگ کرنے والے آبزرویٹری کے مطابق الغوطہ پر حملے کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں اور اب صرف کارروائی شروع کرنے کا اشارہ ملنے کا انتظار ہے۔

اس وقت الغوطہ الشرقیہ میں ہیئہ تحریر الشام کے سیکڑوں جنگجو موجود ہیں۔ آبزرویٹری کے ڈائریکٹر کے مطابق ان جنگجوؤں کو الغوطہ سے نکالنے کے لیے شامی حکومت اور اپوزیشن کے مسلح گروپوں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے شام کے کئی علاقوں میں اس طرح کے معاہدے سامنے آ چکے ہیں جن کے تحت بشار حکومت کی عسکری جارحیت کے بعد اپوزیشن جنجگوؤں کو اپنے زیر کنٹرول علاقہ چھوڑ کر نکل جانے کی اجازت دی گئی۔ عام طور پر یہ جنگجو اِدلب صوبے کا رخ کرتے ہیں جس کے زیادہ تر علاقوں پر ہیئہ تحریر الشام کا کنٹرول ہے۔

دوسری جانب الغوطہ الشرقیہ میں اپوزیشن کے مضبوط ترین گروپ "جيش الاسلام" کے ایک نمایاں کمانڈر محمد علوش نے شامی حکومت کے ساتھ کسی بھی مذاکرات کی تردید کی ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "ہم پوری طاقت کے ساتھ اپنے دفاع کے قانونی حق پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ ہم نے سیاسی حل کے لیے دروازہ کھولا اور شامیوں کی خون ریزی روکنے کے لیے مذاکرات میں شریک ہوئے۔ تاہم مقابل فریق نے ان معاہدوں اور تمام جنگ بندیوں کی خلاف ورزی کی"۔

اسی طرح الغوطہ میں دوسرے نمایاں ترین گروپ "فيلق الرحمن" کے رہ نما وائل علوان نے بھی شامی حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت کی تردید کی۔

دونوں گروپوں کی جانب سے باور کرایا گیا ہے کہ وہ بشار کی فوج کے کسی بھی آئندہ حملے کو پسپا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

یاد رہے کہ "جيش الاسلام" اور "فيلق الرحمن" دونوں گروپ جنیوا اور آستانہ بات چیت میں شریک ہو چکے ہیں اور وہ سیف زون سے متعلق معاہدوں کا بھی حصّہ تھے۔