.

غزہ کی سرحد پر فلسطینی مظاہرین کو روکنے کے لیے اسرائیلی فوج کے 100ماہر نشانچی تعینات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے غزہ کی سرحد کے ساتھ فلسطینیوں کے ایک بڑے احتجاجی مظاہرے سے قبل ایک سو سے زیادہ ماہر نشانہ باز تعینات کردیے ہیں ۔

غزہ کے مکین آج جمعہ سے اپنے لاکھوں فلسطینی بھائیوں کے اسرائیل کے زیر قبضہ اپنے آبائی علاقوں میں واپسی کے حق میں احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں ۔منتظمین کو توقع ہے کہ ان مظاہروں میں پورے پورے خاندانوں سمیت ہزاروں افراد شریک ہوں گے ۔انھوں نے غزہ کے دس شہروں میں فلسطینیوں سے مظاہروں کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اسرائیل کی سرحد کے ساتھ پانچ مقامات پر اکٹھے ہو کر احتجاج کریں۔

اسرائیلی فوج نے سکیورٹی تحفظات کے پیش نظر غزہ اور اسرائیل کے درمیان سرحدی باڑ کے نزدیک علاقے کو فلسطینیوں کے لیے ’’ نو گو ایریا‘‘ قرار دے دیا ہے اور انھیں دھمکی دی ہے کہ اگر وہ اس باڑ کے نزدیک آئے تو ان پر براہ راست فائرنگ بھی کی جاسکتی ہے۔

اسرائیلی فوج کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے اخبار یدیعوت احرنوٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فوج مظاہروں کے دوران میں ’’عام دراندازی‘‘ اور سرحدی باڑ کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے گی۔

انھوں نے اخبار سے انٹرویو میں کہا:’’ ہم نے ایک سو سے زیادہ شارپ شوٹرز تعینات کردیے ہیں ۔انھیں فوج کے تمام یونٹوں اور بالخصوص اسپیشل فورسز سے طلب کیا گیا ہے۔اگر زندگیوں کو کوئی خطر ہ لاحق ہوا تو انھیں فائر کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے‘‘۔

اسرائیلی فوجیوں کی فلسطینی مظاہرین کے ساتھ غزہ کی سرحد پر پہلے بھی پُرتشدد جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں اور وہ انھیں منتشر کرنے کے لیے وقتِ ضرورت اشک آور گیس کے گولے ،ربر کی گولیاں استعمال کرتے ہیں اور ان پر براہ راست فائرنگ سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں ۔

فلسطینی مہاجرین کی ان کے آبائی علاقوں کو واپسی کے حق میں بڑے پیمانے پر ہونے والے اس احتجاجی مظاہرے کے منتظمین کا کہنا ہے کہ انھیں غزہ میں بالادست قوت حماس سمیت تمام فلسطینی دھڑوں کی حمایت حاصل ہے۔

اقوام متحدہ کے خصوصی رابطہ کار برائے مشرقِ وسطیٰ امن عمل نیکولے ملادینوف نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ انتہائی ضبط وتحمل کا مظاہرہ کریں اور تشدد سے بچنے کے لیے ضروری اقدامات کریں ۔انھوں نے رائیٹرز کو ای میل کے ذریعے بھیجے گئے ایک بیان میں کہا کہ ’’ بچوں کو خاص طور پر کسی بھی جانب سے اور کسی بھی طرح خطرے سے دوچار نہیں کیا جانا چاہیے‘‘۔