.

بیروت : حزب اللہ اور امل موومنٹ کے ارکان ہتھیاروں کے ساتھ سڑکوں پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں پیر کی شب اس وقت سکیورٹی کشیدگی پھیل گئی جب حزب اللہ تنظیم اور امل موومنٹ کے متعدد ارکان نے سواریوں میں رہائشی علاقوں کا گشت کرتے ہوئے اشتعال انگیز نعرے بازی کی۔ اس دوران بعض افراد نے براہ راست فائرنگ کی اور سڑکوں پر گاڑیوں پر حملہ بھی کیا۔ اس کے نتیجے میں لبنانی فوج صورت حال کو کنٹرول کرنے کے لیے مداخلت کرنے پر مجبور ہو گئی۔

مذکورہ مظاہرین نے فرقہ وارانہ نعرے لگائے۔ یہ مجمع بیروت میں اُن نشستوں پر "شیعوں کی خصوصی" جیت کا جشن منا رہا تھا جو اس سے قبل لبنانی وزیراعظم سعد حریری کے حصّے میں تھیں۔

چھ مئی کو ہونے والے انتخابات کے بعد حزب اللہ کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد سابق مرحوم وزیراعظم رفیق حریری کی قبر پر پہنچی اور وہاں ان کی یادگار پر حزب اللہ کا پرچم لہرا دیا۔ سوشل میڈیا پر سرگرم حلقوں کی جانب سے وسیع پیمانے پر اس حرکت کی مذمت کی گئی۔

اتوار کی شب بھی حزب اللہ اور امل موومنٹ کے حامیوں کی جانب سے نکالی جانے والی ریلیوں میں "بیروت شیعہ ہو گیا" کے نعرے لگائے گئے۔ اس دوران رفیق حریری کے جائے قتل پر نصب مجسمے کے ساتھ حزب اللہ کا پرچم لہرایا گیا۔

سوشل میڈیا پر متعدد وڈیو کلپ گردش میں آئے ہیں جن میں حزب اللہ اور امل موومنٹ کے حامیان سڑکوں پر خوکار اسلحے کی نمائش کرتے نظر آ رہے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک شخص تو ہاتھ میں توپ شکن راکٹ لانچر "بازوکا" تھامے ہوئے بھی دکھائی دیا۔

پیر کی شام شہر میں کشیدگی اور خوف و دہشت کے ماحول کے سبب وزیر داخلہ نہاد المشنوق نے آئندہ 72 گھنٹوں کے لیے بیروت میں موٹر سائیکل چلانے پر پابندی عائد کر دی۔ البتہ سکیورٹی ادارے، سرکاری ادارے، ریستورانوں کی ڈیلیوری سروس، فارمیسیز، خبر رساں ایجنسیاں، میڈیا، صحافی، کیمرہ مین اور اخبارات و رسائل تقسیم کرنے والی کمپنیاں اس حکم سے مستثنی ہوں گی۔

دوسری جانب لبنانی فوج نے مداخلت کر کے امن و امان کی صورت حال کو کنٹرول کرنے کے واسطے بیروت کی مختلف شاہراہوں پر گشت کیا اور چیک پوسٹ قائم کر دیں۔

اس سے قبل لبنانی وزیراعظم سعد حریری نے فوج کے سربراہ اور داخلہ سکیورٹی فورسز کے ڈائریکٹر جنرل سے مطالبہ کیا تھا کہ صورت حال کے کنٹرول سے باہر جانے سے قبل افراتفری سے نمٹنے کے لیے جلد از جلد ضروری اقدامات کیے جائیں۔