اسرائیل کا شام میں موجود ایرانی ملیشیاؤں کو نکال باہر کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیر دفاع آوی گیڈور لائبرمین نے شام کے صدر بشارالاسد پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے ملک میں موجود تمام ایرانی عسکریت پسندوں کو نکال باہر کریں۔

ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل اسرائیل نے شام میں بڑے پیمانے پر ایرانی فوجی مراکز پر حملے کر کے انہیں تباہ کردیاتھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مقبوضہ وادی گولان کے دورے کے دوران فوجیوں سے ملاقات کے بعد ایک تقریب سے خطاب میں لائبرمین نے کہا کہ شام میں ایرانیوں کی سرگرمیاں کسی صورت میں قابل قبول نہیں ہوں گی۔ میں صدر بشارالاسد سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ شام میں موجود فیلق القدس کو نکال باہر کرے۔

ادھر ایران کے ٹی وی چینل نے ایک سرکردہ مذہبی رہ نما احمد خاتمی کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انہوں نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا ہے کہ اگر اسرائیل نے احمقانہ طرز عمل تبدیل نہ کیا تو تل ابیب اور حیفا کو دنیا کے نقشے سے مٹا دیں گے۔

محمد خاتمی نے جمعہ کے روز جامع تہران میں اجتماع سے خظاب میں کہا کہ مغربی دباؤ کے باوجود ہم اپنے میزائل پروگرام کو اپ گریڈ کریں گے تاکہ اسرائیل کو یہ معلوم ہوکہ کہ اس کی حماقت تل ابیب اور حیفا کو صحفہ ہستی سے مٹا سکتی ہے۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گذشتہ بدھ کو ایران کے ساتھ طے پائے معاہدے سے علاحدگی کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس اعلان کے بعد اسرائیل اور ایران شام کے محاذ پر ایک دوسرے کے خلاف حالت جنگ میں آگئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں