.

عراق میں پارلیمانی انتخابات کے لیے پولنگ ، العربیہ کے نمائندے احوال بتاتے ہیں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں پارلیمانی انتخابات کے لیے ہفتے کے روز پولنگ جاری ہے۔ ملک میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے خلاف جنگ میں فتح کے بعد یہ پہلے عام انتخابات ہیں ۔ان انتخابات کے نتائج ملک کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے بڑی اہمیت کے حامل ہیں ۔

العربیہ نیوز چینل نے ان انتخابات کی کوریج کےلیے عراق کے بڑے شہروں بغداد ، موصل ،نجف ، اربیل اور بصرہ میں اپنے نمائندے بھیجے ہیں اور انھوں نے وہاں سے ہفتے کی دوپہر تک پولنگ کی صورت حال کے بارے میں بتایا ہے:

موصل سے ابراہیم حسین کی رپورٹ

شمالی شہر موصل میں پولنگ مراکز میں صبح سے ووٹروں کا کوئی زیادہ رش دیکھنے میں نہیں آیا کیونکہ شہر میں کرفیو نافذ ہے لیکن بعض سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض علاقوں میں کرفیو ہٹایا جارہا ہے اور اس کے بعد ووٹروں کی زیادہ تعداد میں پولنگ مراکز میں آمد کی توقع کی جارہی ہے۔

موصل اور اس کے نواحی علاقوں میں پولنگ کے دوران میں کوئی خلاف ورزیاں دیکھنے میں نہیں آئی ہیں۔ اب تک انتخابی بے ضابطگی کے صرف ایک واقعے کا پتا چلا ہے اور موصل کے جنوب میں بے گھر افراد کے لیے قائم کیمپ الجدہ میں ایک پولنگ مرکز میں حکام نے ایک بیلٹ باکس کے گم ہونے کی اطلاع دی ہے۔

بغداد سے منتضر الرشید کی رپورٹ

دارالحکومت بغداد کے علاقے اعظمیہ میں پولنگ مراکز میں کافی گھما گھمی دیکھنے میں آئی ہے۔شہر کے بعض پولنگ مراکز میں الیکٹورل مشینوں میں فنی خرابیوں کی اطلاعات ملی ہیں لیکن الیکٹورل کمیٹیوں نے وہاں متبادل بندوبست کردیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ پولنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد مشینوں میں فنی نقائص کا ووٹوں کی گنتی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

شہر کے بیشتر حصوں میں امن وامان کی صورت حال معمول کے مطابق ہے لیکن ہمیں صدر سٹی سے تشدد کے اکا دکا واقعات کی بھی اطلاع ملی ہے اور وہاں الفتح اور النصر انتخابی اتحادکے حامیوں کے درمیان غیر مسلح جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔ عراقی حکام کا کہنا ہے کہ دو تین گروپ گتھم گتھا ہوئے تھے۔

بغداد سے ماجد حامد بتاتے ہیں:

دارالحکومت بغداد میں بیشتر پولنگ مراکز پر صبح کے اوقات میں ووٹ ڈالنے کی شرح انتہائی کم رہی ہے۔ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ سکیورٹی کرفیو ختم کیا جارہا ہے جس کے بعد ووٹروں کے زیادہ ٹرن آؤٹ کی توقع ہے۔

شہر میں صحافیوں اور انتخابی مبصرین کی گفتگو کا بڑا موضوع خراب الیکٹورل مشینیں اور پولنگ مراکز کے باہر متحارب دھڑوں کے حامیوں کے درمیان جھڑپیں ہیں۔

بصر ہ سے علی خلاف

بصرہ میں ذرائع نے العربیہ کے نمائندے کو بتایا ہے کہ شہر کے شمال اور مشرق میں واقع دیہات اور قصبوں میں بڑی تعداد میں اہل ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے آرہے ہیں جبکہ خود شہر میں ان کے مقابلے میں ووٹ ڈالنے کی شرح کم رہی ہے۔

ایک انتخابی مبصر کے مطابق بصرہ میں دوپہر تک ووٹ ڈالنے کی شرح 37 فی صد کے لگ بھگ تھی۔البتہ شہر کے البشائر مرکز میں پانچ سے آٹھ پولنگ مراکز میں ووٹ ڈالنے کی شرح 70 سے 80 فی صد تک تھی۔حکام کا کہنا تھا کہ آخری گھنٹوں میں ووٹروں کی زیادہ تعداد کی پولنگ مراکز میں آمد متوقع ہے۔

علی خلاف نے بھی بصرہ میں ووٹر مشینوں میں خرابی کی اطلا ع دی ہے اور بتایا ہے کہ ایک پولنگ مرکز پر مشینیں خراب ہوجانے کے بعد روایتی بیلٹ پیپر ز استعمال کیے جارہے ہیں اور ووٹر ووٹ پرچیوں پر اپنے پسندیدہ امیدواروں اور گروپوں کے آگے نشان لگا رہے ہیں ۔

اربیل سے احمد الحمدانی کی رپورٹ

عراق کے خود مختار علاقے کردستان کے دارالحکومت اربیل میں مقامی ووٹروں کے علاوہ داعش کے خلاف جنگ کے دوران میں بے گھر ہونے والے افراد کے لیے بھی پولنگ مراکز قائم کیے گئے ہیں ۔

عارضی کیمپوں میں قیام پذیر ووٹروں کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے وقت سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑا ہے اور بہت سے ووٹروں کو پولنگ مراکز میں موجود انتخابی فہرستوں میں اپنے نام ہی نہیں مل پارہے ہیں ۔

العربیہ نے ایسے بے گھر متعدد افراد سے بات کی ہے اور انھوں نے بتایا ہے کہ انھیں چھے سے سات پولنگ مراکز میں اپنے نام نہیں ملے ہیں ۔انھوں نے جب انتخابی عملہ سےاپنی شکایت کے ازالے کے لیے رابطہ کیا تو انھوں نے یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں اور یوں وہ ا پنا حق رائے دہی استعمال نہیں کرسکے ہیں۔

عراق کا اعلیٰ الیکٹورل کمیشن مقامی وقت کے مطابق چھے بجے پولنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد ووٹ ڈالنے کی شرح اور انتخابی عمل سے متعلق دیگر تفصیل کا اعلان کرے گا۔کمیشن کے حکام انتخابی نتائج جاری کرنے کے وقت اور تاریخ کا بھی اعلان کریں گے۔ توقع ہے کہ اس کے اڑتالیس گھنٹے کے بعد الیکٹورل کمیشن پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی نتائج کا اعلان کردے گا۔