.

حوثیوں نے مغوی افراد کے لیے افطار اور سحری کا سامان داخل ہونے سے روک دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے مغربی صوبے الحدیدہ میں مغوی افراد کی ماؤں کی انجمن نے پیر کے روز احتجاج کے دوران اپنے بیٹوں کی رہائی کا مطالبہ کیا جن کو باغی حوثی ملیشیا کی جیلوں میں جبری طور پر روپوش رکھا گیا ہے۔

انجمن کی جانب سے جاری بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ حوثیوں نے مغوی افراد کے افطار اور سحری کے لیے کھانے پینے کی اشیاء کا داخلہ روک دیا ہے۔ اس کے علاوہ ان افراد کو ہتک آمیز برتاؤ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہر سال رمضان میں ان کے بیٹوں کو شدید گرمی کا عذاب جھیلنا پڑتا ہے اور اس دوران ہر قسم کے جسمانی اور نفسیاتی تشدد اور اذیت کا سامنا ہوتا ہے۔

مغوی افراد کی ماؤں نے عالمی برادری ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے تا کہ تمام مغوی اور جبری روپوش افراد کی رہائی عمل میں لائی جا سکے۔

بیان میں حوثی ملیشیا کو اُن تمام مغوی افراد کی سلامتی کا ذمّے دار ٹھہرایا گیا جو باغیوں کی جیلوں میں قید ہیں۔ بیان میں زور دیا گیا کہ اس جرم کے مرتکب عناصر کے محاسبہ کیا جانا چاہیے۔

سال 2014ء کے اواخر میں صنعاء پر قبضے کے بعد سے حوثی ملیشیا ہزاروں افراد کو اغوا کرچکی ہے۔ ان میں باغیوں کے منصوبے کے مخالف سیاسی کارکنان، سیاست دان، صحافی اور یمنی شہری شامل ہیں۔ ان میں متعدد افراد وحشیانہ تشدد کے سبب اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ علاوزہ ازیں حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں خفیہ جیلوں اور قید خانوں کے اندر ان افراد کو انسانی حقوق کی بدترین پامالی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔