عراق :داعش کے ہاتھوں سکیورٹی اہلکاروں کے اغوا کے بعد متعدد مشتبہ افراد گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق میں داعش کے جنگجوؤں نے چھے سکیورٹی اہلکاروں کو ؛ یرغمال بنا رکھا ہے جس کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے اس واقعے کے الزام میں متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

داعش کے جنگجوؤں نے ان چھے سکیورٹی اہلکاروں کو اغوا کے بعد ہفتے کے روز دھمکی دی تھی کہ اگر جیلوں میں قید سُنی خواتین کو رہا نہ کیا گیا تو انھیں قتل کر دیا جائے گا۔

داعش نے ایک ویڈیو بھی جاری کی تھی ۔اس میں یہ چھے افراد خود کو پولیس اور شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی کے ارکان کے طور پر متعارف کرا رہے ہیں۔الحشد الشعبی نے عراق میں داعش کے خلاف لڑائی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

داعش کے جنگجوؤں نے ان اہل کاروں کو بغداد کو ملک کے شمالی صوبے کرکوک سے ملانے والی مرکزی شاہراہ سے اغوا کیا تھا۔ اس شاہراہ پر داعش کے جنگجوؤں نے عراقی فورسز پر حالیہ ہفتوں کے دوران میں متعدد حملے کیے ہیں۔

عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے اتوار کو سکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کے سربراہوں کے ایک اجلاس کی صدارت کی تھی ۔انھوں نے سکیورٹی حکام کو شاہراہوں اور مسافروں کے تحفظ کے لیے ایک خصوصی فورس کی تشکیل کا حکم دیا تھا۔

عراقی سکیورٹی فورسز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’اس فورس نے دہشت گرد اور جرائم پیشہ گروہوں میں شامل عناصر کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ صوبہ کرکوک میں ایک شاہراہ پر اغوا کے حالیہ واقعے میں ملوّث تھے‘‘۔

واضح رہے کہ وزیراعظم حیدر العبادی نے گذشتہ سال دسمبر میں داعش کے خلاف جنگ میں فتح کا اعلان کیا تھا لیکن عراقی فورسز اب تک اس سخت گیر گروپ کا مکمل خاتمہ نہیں کرسکی ہیں اور اس کے جنگجو آئے دن سکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں پر خودکش بم حملے یا عام حملے کرتے رہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں