.

درعا : شامی اپوزیشن اور روس کے درمیان مذاکرات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی اپوزیشن کے مذاکرات کاروں نے ہفتے کے روز انکشاف کیا ہے کہ جنوبی صوبے درعا میں اپوزیشن جنگجوؤں کے زیر کنٹرول بعض حصوّں پر ریاستی خود مختاری کی واپسی کے لیے ایک معاہدے کے واسطے روس کے ساتھ بات چیت کا آغاز ہو گیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق مذکورہ مذاکرات کاروں کا کہنا ہے کہ شام کے جنوب میں اپوزیشن جنگجوؤں کی جانب سے شہریوں اور عسکری اہل کاروں پر مشتمل کمیٹی میں 6 افراد شامل ہیں۔ کمیٹی نے ملحقہ صوبے السویداء کی انتظامی سرحد پر اپنا تمہیدی اجلاس منعقد کیا۔

جنوبی شام میں جیشِ حُر کے زیر انتظام مرکزی جماعتوں کی جانب سے قاءم کردہ سینٹرل آپریشنز روم کے سرکاری ترجمان ابراہیم الجباوی نے بتایا کہ "کمیٹی نے روسی جانب کے ساتھ اپنا پہلا اجلاس منعقد کیا جس میں روس نے اپنے مطالبات پیش کیے"۔

توقع ہے کہ بات چیت کا دوسرا دور ہفتے کے روز ہو گا۔

دوسری جانب شامی حکومت کے ہمنوا میڈیا نے بتایا ہے کہ بشار کی فوج درعا کے جنوب مشرقی دیہی علاقے میں الکرک اور الغاریہ کے قصبوں میں داخل ہو گئی۔ یہ پیش رفت ایک مصالحتی اتفاق رائے کے نتیجے میں مسلح گروپوں کی جانب سے ان قصبوں کو حوالے کیے جانے کے بعد سامنے آئی۔

یاد رہے کہ اردن کے ایک سرکاری ذریعے نے جمعے کے روز اعلان میں کہا تھا کہ جنوبی شام میں فائر بندی کے حوالے سے مصدقہ رپورٹیں موجود ہیں، فائر بندی کے نتیجے میں اپوزیشن اور شامی حکومت کی فورسز کے درمیان "مصالحت" سامنے آئے گی۔ شامی فوج اس علاقے میں گزشتہ ہفتے سے حملوں میں مصروف ہے تا کہ اپوزیشن کے زیر کنٹرول اراضی کو واپس لیا جا سکے۔

اردن نے درعا سے بڑی تعداد میں لوگوں کی نقل مکانی کے حوالے سے بھی خبردار کیا۔ اقوام متحدہ کے مطابق جنوبی شام میں 10 روز قبل شامی حکومت کی عسکری مہم جوئی شروع ہونے کے بعد سے اب تک 1.6 افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔