عراقی کردستان کے آزادی ریفرنڈم کی کوریج پر ایرانی صحافی کو کوڑوں کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کی ایک مقامی انقلاب عدالت نے گذشتہ برس عراق کے صوبہ کرستان میں خود مختاری کے لیے ہونےوالے ریفرنڈم کی کوریج کرنے پر ایک صحافی کو کوڑوں اور بھاری جرمانہ کی سزا کا حکم دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران کے مغربی شہر سقزکی ایک عدالت میں پیش کردہ صحافی بختیار خوشنام کو نظام عام میں خلل ڈالنے کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ ایران نے گذشتہ برس عراق کے صوبہ کردستان میں خود مختاری کے لیے ہونے والے ریفرنڈم پرایران نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا تھا۔

فارسی خبر رساں ادارے’موکریا‘ کے مطابق سقزکی عدالت نے صحافی بختیار خوشنام کوعراقی کردستان کے آزادی ریفرنڈم کی کوریج کی پاداش میں 74 کوڑے مارنے اور 19 ملین ایرانی ریال جرمانہ کی سزا کا حکم دیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق خوشنام کے خلاف مقدمہ کی کارروائی بند کمرے میں کی گئی اور اس کے وکیل کو عدالت میں پیش ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔

خیال رہے کہ بختیار خوش نام کو ایرانی نظام کے خلاف ’فردا ریڈیو‘ پر پروپیگنڈہ کرنے کے الزام میں 2017ء میں گرفتار کیا گیا اور تین ماہ تک جیل میں قید رکھا تھا۔ ستمبر 2017ء کو جب عراقی کردستان نے آزادی ریفرنڈم کرایا توایران نے اربیل کو اعلان آزاد پر فوجی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں