.

حزب اللہ کی مداخلت ، یمن کا سلامتی کونسل سے تحقیقات کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی حکومت نے عالمی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ یمن کے معاملے میں لبنانی ملیشیا حزب اللہ کی مداخلت کی بین الاقوامی تحقیقات کرائی جائیں۔ یہ مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب جنیوا میں اقوام متحدہ کے زیر سرپرستی 6 ستمبر کو مقررہ امن مذاکرات کا وقت قریب آ ر ہا ہے۔

اقوام متحدہ میں یمن کے مستقل مندوب احمد عوض بن مبارک کی جانب سے پیش کیے گئے خط میں باور کرایا گیا ہے کہ حوثی ملیشیا کو حزب اللہ کی جانب سے ہدایات کا سامنا ہے جن کا مقصد جنیوا مذاکرات میں روکاٹ ڈالنا ہے۔

خط میں حزب اللہ ملیشیا کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ کے 29 جون کے خطاب کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ اس خطاب میں حزب اللہ کے سربراہ نے یمنی سرکاری فوج کے خلاف لڑائی پر اُکسایا تھا۔ نصر اللہ نے اعلانیہ طور پر کہا تھا کہ وہ اور حزب اللہ ملیشیا یمن میں حوثیوں کے شانہ بشانہ لڑائی میں شرکت کی خواہش رکھتے ہیں۔

اس سے قبل یمنی وزیر خارجہ خالد الیمانی نے اپنے لبنانی ہم منصب جبران باسیل کو بھیجے گئے ایک خط میں حزب اللہ کے حوثی باغیوں کی سپورٹ میں ملوث ہونے پر احتجاج کیا تھا۔ الیمانی نے لبنانی حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ ایران نواز ملیشیا حزب اللہ کو لگام دے۔ انہوں نے زور دے کر کہا تھا کہ اُن کا ملک یہ حق رکھتا ہے کہ اس معاملے کو عرب اور بین الاقوامی فورموں پر اُٹھائے۔

دوسری جانب واشنگٹن میں یمنی سفارت خانے کے مطابق حوثی ملیشیا کے وفد کا لبنان میں حسن نصر اللہ سے ملاقات کرنا ، یہ یمن کو عدم استحکام سے دوچار کرنے میں حزب اللہ کے کردار کا ایک اور ثبوت ہے۔