قطر اس وقت لیبیا اور الجزائر کے بیچ پُھوٹ ڈالنے کے لیے کوشاں ہے: لیبیا کی فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لیبیا کی فوج کے سربراہ خلیفہ حفتر نے قطر پر الزام عائد کیا ہے کہ اُس نے حفتر کے حالیہ اخباری بیان کو توڑ موڑ کر پیش کیا اور الجزائر کے ساتھ ایک تنازع بھڑکا دیا۔

حفتر کے دفتر میں میڈیا آفیشل خلیفہ العبیدی نے منگل کے روز فوج کے سربراہ کے حوالے سے بتایا کہ "حفتر کی جانب منسوب یہ بیان کہ انہوں نے لیبیا کی جنگ کو الجزائر کی سرزمین تک منتقل کرنے کی دھمکی دی ہے ، یہ بالکل بے بنیاد ہے"۔ انہوں نے باور کرایا کہ "لیبیا کے اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ جن میں برادر ملک الجزائر شامل ہے اعلی سطح کے تعلقات ہیں"۔

العبیدی کے مطابق حفتر نے واضح کیا ہے کہ لیبیا کی فوج نے الجزائر کی سرحد سے بعض مسلح گروپوں کو لیبیا کی اراضی میں داخل ہوتے دیکھا تاہم ان گروپوں کی شناخت نہیں ہو سکی۔ بعد ازاں حفتر نے "اپنے ایک معاون کو الجزائر بھیجا تا کہ مذکورہ گروپوں کی نوعیت کے بارے میں جان کاری حاصل ہو سکے کہ آیا وہ الجزائر کے کوسٹ گارڈز کے زیر انتظام تھے یا پھر اُن کا تعلق دہشت گردوں سے تھا۔ الجزائر کی جانب سے اس مسئلے سے نمٹنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے"۔

لیبیا کی فوج کے ترجمان میجر جنرل احمد المسماری نے الزام عائد کیا ہے کہ قطر فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ لیبیا اور الجزائر ایک ریاست ہیں اور مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کام کر رہے ہیں۔

دوسری جانب الجزائر کے وزیر خارجہ عبدالقادر مساہل کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات ایک اخباری بیان سے خراب نہیں ہو سکتے۔

اس سے قبل الجزائری وزیراعظم قطر پر الزام عائد کر چکے ہیں کہ اُس نے کئی ممالک میں خرابی لانے کے واسطے کروڑوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔

قطر جو قذافی کی حکومت کے سقوط کے بعد سے لیبیا میں شدت پسند ملیشیاؤں کی سپورٹ کے حوالے سے جانا جاتا ہے ، میڈیا اور انٹیلی جنس حلقوں کی جانب سے اُسے الجزائر میں تقنتورین کی گیس تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کارروائی میں ملوث قرار دیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے دوحہ نے پانچ برس قبل ہونے والے اس حملے میں شریک ملیشیاؤں کی فنڈنگ کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں