.

ایران میں قوم کے معمار بھی ریاستی جبرو تشدد کا مسلسل شکار

قیدو بند اور مالی حقوق سے محروم کرنے کے خلاف اساتذہ سراپا احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں ہرشعبہ ہائے زندگی کے افراد حکمران طبقے کے مظالم سے نالاں ہیں۔ جامعات کے طلباء ہوں یا ٹرک ڈرائیور، اساتذہ ہوں یا کاروباری طبقہ ایرانی رجیم سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانک رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران میں حاضر سروس اور ریٹائرڈ اساتذہ نے اپنے ساتھیوں کو جیلوں میں ڈالنے، تشدد کرنے اور انہیں مالی حقوق سے محروم رکھے جانے کے خلاف سخت احتجاج کیا ہے۔

پانچ اکتوبر کو استاذہ کے عالمی دن کے موقع پر ایران میں بھی سیکڑوں اساتذہ سڑکوں پر نکل آئے اور اپنے حقوق اور حکومت کی انتقامی کارروائیوں کے خلاف احتجاج کیا۔

تہران میں ہونے والے ایک مظاہرے میں اساتذہ نے اپنے گم شدہ اور جیلوں میں‌ڈالے گئے ساتھیوں کی تصاویر اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر زیرحراست قیدیوں کو فوری رہا کرنے کے احکامات درج تھے۔

ایرانی شہر کازرون میں محکمہ تعلیم کے مقامی دفتر کے باہر بھی اساتذہ کی بڑی تعداد نے احتجاجی دھرنا دیا۔ انہوں نے اساتذہ کے ابتر معاشی حالات کے حوالے سے حکومت کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی طرف مبذول کرانے کی کوشش کی۔

ایران میں اساتذہ کی تنظیم کی طرف سے ملک گیر پیغام بھیجا گیا تھا جس میں اساتذہ کرام سے کہا گیاتھا کہ وہ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں۔

اساتذہ نے اپنے ساتھیوں کی گرفتاریوں اور انہیں کڑی سزائیں دیئے جانے کی شدید مذمت کی اور گرفتار کیے گئے اساتذہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ خیال رہے کہ چار ماہ قبل احتجاج کرنے کی پاداش میں ایرانی پولیس نے اساتذہ کے ایک لیڈر محمد حبیبی کو حراست میں لے کر اس کے خلاف تخریب کاری اور دیگر الزامات کے تحت مقدمہ چلایا۔عدالت نے حبیبی کو 7 سال قید، 74 کوڑے مارنے اور دو سال تک سوشل حقوق سے محروم کرنے سزا سنائی۔ اس پر ملک بھرمیں اساتذہ میں سخت غم وغصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔