.

سعودی عرب 1973ء کی طرح تیل کی بندش دُہرانا نہیں چاہتا: وزیر توانائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزیر توانائی خالد الفالح کا کہنا ہے کہ سعودی عرب 1973ء کی طرح مغربی ممالک کو تیل کی فراہمی پر پابندی عائد کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ مملکت تیل کو سیاست سے علاحدہ کر دے گی۔

پیر کے روز تاس نیوز ایجنسی کو دیے گئے بیان میں الفالح نے باور کرایا کہ "اُس تجربے کو دہرانے کا کوئی ارادہ نہیں"۔

الفالح کے مطابق سعودی عرب ایک انتہائی ذمّے دار ریاست ہے اور ہم کئی دہائیوں سے اپنی تیل کی پالیسی کو ذمّے داری پر مبنی اقتصادی ذریعے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

سعودی وزیر نے بتایا کہ مستقبل قریب میں مملکت کی تیل کی یومیہ پیداوار 1.1 کروڑ بیرل تک بڑھ جانے کا امکان ہے ،،، تاہم ہم اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتے کہ تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر نہیں جائے گی۔

الفالح کے مطابق تیل کی قیمتوں میں ضرورت سے زیادہ اضافہ عالمی معیشت کی سست روی اور کساد بازاری کا سبب بنتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ "اگر یومیہ 30 لاکھ بیرل کی کمی ہو جائے تو ہم مطلوبہ حجم کو پورا نہیں کر سکیں گے اور ہمیں تیل کے ریزرو ذخائر کو استعمال کرنا لازم ہو گا"۔