اگست سے اب تک 100 یمنی ماہی گیر ایرانی جہاز "ساويز" کا شکار
یمن کے ایک عہدے دار نے الزام عائد کیا ہے کہ رواں سال اگست کے اوائل سے اب تک ایرانی بحری جہاز "ساویز" مغربی ساحل کے علاقے میں 100 یمنی ماہی گیروں کو ہلاک اور زخمی کر چکا ہے۔
یمن کے ضلع خوخہ میں ساحلی پولیس کے سربراہ فتحی المعلم کے مطابق مذکورہ ایرانی جہاز کا نشانہ بن کر 40 یمنی ماہی گیر جاں بحق اور 60 زخمی ہوئے۔
فتحی المعلم کا یہ موقف بدھ کے روز الحدیدہ صوبے کے ضلعے خوخہ میں ماہی گیروں کی جانب سے ہونے والے احتجاج کے دوران سامنے آیا۔ اس موقع پر مطالبہ کیا گیا کہ ایرانی بحری جہاز "ساويز" کی کارستانیوں کو فوری طور پر روکا جائے جو ماہی گیروں، یمن کے علاقائی پانی اور بحر احمر میں بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔
ساحلی پولیس کے سربراہ کے مطابق ایرانی جہاز کے حملوں کی وجہ سے کئی کشتیوں کو مختلف نوعیت کا نقصان پہنچا۔
خوخہ کے ماہی گیروں کی جانب سے جاری بیان میں یمن کی آئینی حکومت، عالمی برادری اور بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنی ذمے داری پوری کرتے ہوئے ایرانی جہاز کو یمن کے علاقائی پانی اور بحر احمر سے دور کرنے کے واسطے کام کریں تا کہ وہ ماہی گیروں کے خلاف اپنی اشتعال انگیز کارروائیوں کا سلسلہ بند کرے۔
بیان میں یمنی حکومت اور عرب اتحاد کی قیادت سے اپیل کی گئی ہے کہ یمنی ماہی گیروں کو تحفظ فراہم کیا جائے اور مذکورہ علاقے میں ایرانی بحری جہاز کی موجودگی کو ختم کرایا جائے جو ماہی گیروں کی روزی کے واحد ذریعے کو تباہ کر رہا ہے۔
یمن میں آئینی حکومت کو سپورٹ کرنے والے عرب اتحاد کی فورسز کے سرکاری ترجمان ترکی المالکی پہلے ہی ایرانی عسکری بحری جہاز "ساويز" کی تصاویر منظر عام پر لا چکے ہیں۔ ساویز ایک تجارتی جہاز کے طور پر رجسٹرڈ ہے جب کہ اس پر نصب جدید ترین آلات اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینڑ حوثی ملیشیا کے لیے عسکری مشن انجام دینے میں کام آ رہا ہے۔