.

وزیر دفاع اور وزیر داخلہ کے امیدواروں کا چُناؤ میرا نہیں: عراقی وزیراعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے انکشاف کیا ہے کہ وزارتی تشکیل نامزد امیدواروں کے ناموں پر سیاسی گروپوں کے اتفاق رائے پر منحصر ہے۔ عبدالمہدی نے واضح کیا کہ وزیر داخلہ اور وزیر دفاع کے لیے دونوں امیدواروں کی نامزدگی اُن کا انتخاب نہیں۔

منگل کے روز بغداد میں ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کے جواب میں عبدالمہدی نے بتایا کہ "ہمیں آٹھ یا نو وزراء کے چُناؤ کی آزادی تھی جب کہ بقیہ نامزدگیاں سیاسی سمجھوتوں کا نتیجہ ہے"۔

یاد رہے کہ رواں سال مئی میں ہونے والے عام انتخابات کے پانچ ماہ بعد نومبر کے آغاز میں عادل عبدالمہدی کو حکومت تشکیل دینے کے واسطے نامزد کیا گیا۔ تاہم نئے وزیراعظم کو اپنے بعض نامزد امیدواروں بالخصوص دفاع اور داخلہ کے قلم دانوں کے حوالے سے پارلیمنٹ کے کئی ارکان کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا لہذا عبدالمہدی صرف 14 وزراء کے نام پیش کر سکے۔

اس سلسلے میں عبدالمہدی نے باور کرایا کہ سمجھوتا یہ ہوا تھا کہ سیاسی گروپ اور اتحاد اپنے امیدواروں کے ناموں کو پیش کریں گے اور وزیراعظم ان میں سے ہی چناؤ کرے گا۔

وزارت داخلہ اور وزارت دفاع کے حوالے سے عبدالمہدی نے بتایا کہ ان دونوں قلم دانوں کے لیے نامزدگی سیاسی گروپوں کا آپشن ہے۔

دوسری جانب عبدالمہدی نے بغداد کے وسط میں واقع حساس ترین علاقے گرین زون کے دوبارہ سے جزوی افتتاح پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "اس میں اہم پیغامات ہیں"۔ انہوں نے باور کرایا کہ اس فیصلے کو واپس نہیں لیا جائے گا ،،، اگر باہر امن و امان نہیں تو پھر اندر بھی کوئی امن نہیں ہو گا اور شہریوں کی حفاظت بھی اسی طرح ہو جس طرح عہدے دار کی ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ گرین زون کا جزوی افتتاح پیر کے روز ایسے موقع پر کیا گیا جب ملک میں داعش تنظیم کی ہزیمت کا ایک سال مکمل ہونے کو پرجوش انداز سے منایا جا رہا ہے۔

گرین زون میں سفارتی مشنوں کے دفاتر واقع ہیں جس کے سبب یہاں سخت ترین سکیورٹی اقدامات کیے گئے ہیں۔ یہ علاقہ ٹریفک کی آمد و رفت کے لیے بند ہے جس کے سبب دارالحکومت میں شدید ٹریفک جام کی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے۔