ایرانی پاسداران انقلاب میں "متشدد" شخصیات کا تقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی "تسنیم" نے جمعرات کے روز بتایا ہے کہ سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے ایرانی پاسداران انقلاب کی فورسز میں اعلی سطح پر نئی تبدیلیاں کی ہیں۔ یہ پیش رفت پاسداران انقلاب کے نئے سربراہ کے تقرر کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے بعد سامنے آئی ہے۔

خامنہ ای کے دفتر کے اعلان کے مطابق پاسداران انقلاب کی بحریہ کے 58 سالہ کمانڈر علی فدوی کو پاسداران انقلاب کا نائب سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ اسی طرح باسیج فورس کے 65 سالہ سابق کمانڈر محمد رضا نقدی کو پاسداران انقلاب کا جنرل کوآرڈی نیٹر بنا دیا گیا ہے۔

پاسداران انقلاب کا نیا نائب سربراہ علی فدوی اپنے سخت گیر اور متشدد مواقف کے سبب جانا جاتا ہے۔ وہ مشرق وسطی میں واشنگٹن اور اس کے حلیفوں کے مفادات کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دیتا رہا ہے۔ فدوی نے جنوری 2016 میں 10 امریکی فوجیوں کو 15 گھنٹوں تک یرغمال بنائے رکھنے کی کارروائی کی نگرانی کی تھی۔ یہ امریکی فوجی ایران کے علاقائی پانی میں راستہ بھٹک گئے تھے۔

ایرانی پاسداران انقلاب کا نیا رابطہ کار محمد رضا نقدی ایرانی فوج کے اُن نمایاں ترین جنرلوں میں سے ہے جو گوریلا جنگ کے لیے ٹولیاں تشکیل دینے اور سرحد سے باہر بے ضابطہ معرکوں کی نگرانی کا تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ ماضی میں سابق عراقی صدر صدام حسین کی حکمرانی کی مخالف عراقی ملیشیاؤں کے گروپ بدر فیلق بدر کی قیادت بھی سنبھال چکا ہے۔

سال 2014 میں باسیج فورس کے اس سابق کمانڈر نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ لاکھوں ایرانی شام اور غزہ جانے کے لیے تیار ہیں۔ اس نے بغداد میں امریکی سفارت خانے کو داعش کی قیادت کا مرکز قرار دیا تھا۔ نقدی کا نام 2009 میں ہونے والے احتجاج سے لے کر رواں سال کے آغاز تک عوامی مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث اہم ترین ایرانی عہدے داران میں شمار ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ سلامتی کونسل نے مارچ 2008 سے نقدی کا نام پابندیوں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔ اس کی وجہ اس عرصے میں نقدی کا مغربی ممالک کی جانب سے تہران پر عائد پابندیوں کی خلاف ورزی میں ملوث ہونا تھا۔

مذکورہ نئے تقرر ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں امریکا اور ایران کی جانب سے جارحیت میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ امریکا نے ایک ہفتے سے بھی زیادہ عرصہ قبل خلیج عربی میں عسکری کمک بھیج دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں