.

امریکی صدرکی عُمان کے ذریعے ایران کو حملوں کی تنبیہ!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خبر رساں ادارے 'رائیٹرز' نے بتایا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کل جمعرات کے روز خلیجی ریاست اومان کے توسط سے ایران کو حملوں کی وارننگ دی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ امریکا جنگ نہیں چاہتا بلکہ بات چیت میں دلچسپی رکھتا ہے۔ جن ثالثوں نے امریکی پیغام خامنہ ای تک پہنچایا ان کا کہنا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر نے بات چیت کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ انہوں‌ نے نے خبردار کیا کہ امریکا کی کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کے علاقائی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہوں‌ گے۔

'رائیٹرز' نے ایرانی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ تہران کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پیغام سلطنت اومان کے توسط سے پہنچایا گیا جس میں ایران کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر ایران نے اپنا رویہ نہ بدلا تو ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی جاسکتی ہے۔

'رائیٹرز' نے عمان کے عہدیداروں کی شناخت ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایا کہ ٹرمپ نے اپنے پیغام نے ایران سے کہا ہے کہ وہ تہران کے ساتھ جنگ کے بجائے بات چیت کا خواہاں ہے جس کے جواب میں ایران نے جواب دیا ہے کہ بات چیت کا فیصلہ رہبر انقلاب آیت اللہ علی خامنہ ای کے ہاتھ میں ہے جو اس وقت امریکا کے ساتھ بات چیت کے حامی نہیں ہیں۔

ایک دوسرے عہدیدار کہا کہ ہم نے ایرانی سپریم لیڈر کے سامنے امریکی تجویز پیش کی جس پر انہوں‌ نے انکار کر دیا۔ اس پر عمان نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر اس کے خلاف فوجی کارروائی ہوتی ہے تو اس کے سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں۔

ادھر امریکی اخبار 'نیویارک ٹائمز' نے جمعہ کے روز شائع ایک خبر میں کہا ہے کہ امریکی صدر نے ایران میں‌ سرجیکل سٹرائیک کی منظوری دی تھی جس میں ایران کے راڈار سسٹم، میزائل بیٹرویوں اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنانے کا کہا تھا مگر بعد ازاں امریکا نے ایران کے خلاف محدود حملے کا فیصلہ واپس لے لیا تھا۔