مدینہ منورہ صوبے میں دور دراز واقع مساجد کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرنے والا فوٹوگرافر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

معاذ العوفی مدینہ منورہ صوبے کی ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں ثقافتی پروگرام کے سربراہ اور ایک کہنہ مشق فوٹوگرافر بھی ہیں۔ انہوں نے 6 برس قبل مدینہ منورہ میں آبادی سے دور دراز واقع 100 سے زیادہ مساجد کو اپنے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرنے کا ارادہ کیا۔ اس اقدام کا مقصد ان مساجد کو متعارف کرانا یا پھر اسمارٹ پلاننگ کے ذریعے ان کی دوبارہ سے تعمیر پر کام کرنا ہے۔

معاذ العوفی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 2014 سے جاری اس منصوبے کو انہوں نے (التشهد الأخير) کا نام دیا ہے۔ اس منصوبے کی تصاویر فرانس، بیلجیم اور امریکا کے علاوہ جدہ کی آرٹس کونسل میں بھی نمائش کے لیے پیش کی جا چکی ہیں۔

العوفی نے واضح کیا کہ اُن کے اس منصوبے کا مقصد ان مساجد کا تعارف پیش کرنا ہے تا کہ ان کی مرمت یا از سر نو تعمیر عمل میں آ سکے۔

سعودی فوٹوگرافر نے بتایا کہ انہوں نے مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ جانے والے راستے "طریق الہجرہ" پر 20 سے زیادہ مساجد کی تصاویر لی ہیں۔ اسی طرح کیاد مرکز سے جازان تک کا کنارہ دور دراز مساجد سے بھرا ہوا ہے۔ یہ مساجد اپنے پیچھے ایک تاریخی پس منظر رکھتی ہیں۔

سعودی عرب میں دیہات کے بیچ اور دور دراز علاقوں میں متعدد مساجد پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ مساجد اہل خیر کی جانب سے بنوائی جاتی ہیں تا کہ راستے کے مسافر یہاں نماز ادا کر سکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں