.

بغداد میں مظاہرے جاری ،عراقی فورسز کی کارروائی میں ایک احتجاجی ہلاک،12زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے دارالحکومت بغداد میں سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ایک مرتبہ طاقت کا استعمال کیا ہے جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور بارہ زخمی ہوگئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان ہفتے کو بغداد کے وسطی علاقے میں مسلسل تیسرے روز جھڑپیں ہوئی ہیں۔شاہراہ رشید پر احتجاجی مظاہرے میں شریک ایک شخص ربر کی گولی لگنے سے موقع پر ہی دم توڑ گیا۔شاہراہ رشید پر جمعرات سے سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور جھڑپوں میں مرنے والے مظاہرین کی تعداد پندرہ ہوگئی ہے اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

دارالحکومت میں احتجاج کرنے والے مظاہرین نے شہر کی حدود میں واقع دجلہ کے تین پلوں السنک ، الاحرار اور الجمہوریہ کے بعض حصوں پر قبضہ کررکھا ہے۔ دریائے دجلہ پر یہ پُل بغداد شہر کو قلعہ نما گرین زون سے ملاتے ہیں جہاں حکومت کے دفاتر ، پارلیمان اور دوسرے ممالک کے سفارت خانے واقع ہیں۔

عراقی حکومت نے گرین زون کی جانب سکیورٹی فورسز کو تعینات کررکھا ہے اور کنکریٹ کی رکاوٹیں کھڑی کررکھی ہیں تاکہ مظاہرین اس علاقے کی جانب دراندازی نہ کرسکیں۔مظاہرین اس ماہ کے اوائل میں الاحرار پل پر کنٹرول میں کامیاب ہوگئے تھے لیکن بعد میں عراقی سکیورٹی فورسز نے ان کے خلاف طاقت کا اندھا دھند استعمال کیا تھا اور انھیں وہاں سے پسپا کردیا تھا۔

بغداد اور عراق کے جنوبی شہروں میں یکم اکتوبر سے حکومت مخالف پُرتشدد احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور جھڑپوں میں 341 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔عراقی سکیورٹی فورسز کے اہلکاراحتجاجی ریلیوں میں شریک مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے براہ راست گولیاں چلاتے ہیں جس سے اتنی زیادہ تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

دریں اثناء عراقی پارلیمان کا کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس منعقد نہیں ہوسکا اور اجلاس آیندہ سوموار تک ملتوی کردیا گیا ہے۔عراقی پارلیمان میں مظاہرین کے مطالبات پر مبنی اصلاحات کے لیے بل پیش کیے جانے تھے۔