.

شام: ایران نواز ملیشیاؤں کے سر سے سلیمانی کا "سایہ" اُٹھ گیا، روس کے نفوذ میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں ایران نواز شیعہ ملیشیائیں ایک بار پھر نامعلوم طیاروں کے نشانے پر آ گئی ہیں۔ جمعرات اور جمعے کے درمیانی شب البوکمال کے علاقے میں گولہ بارود کے گودام اور عسکری گاڑیوں کو تباہ کر دیا گیا جب کہ کارروائی میں الحشد الشعبی ملیشیا میں شامل تنظیم عراقی حزب اللہ بریگیڈ کے 8 ارکان مارے گئے۔

حالیہ چند ماہ میں علاقے میں نامعلوم طیاروں کی جانب سے ایرانی گروپوں پر حملے تیز ہو گئے ہیں۔

گذشتہ جمعے کے روز 3 جنوری کو امریکی ڈرون حملے میں ایرانی القدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی کی ہلاکت سے مذکورہ ملیشیاؤں کے درمیان رابطہ کاری اور ان کی منصوبہ بندی کے عمل پر کاری ضرب لگی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق سلیمانی کی موت شام میں ایران نواز مسلح ملیشیاؤں کی بشار حکومت کی فورسز کے ساتھ مشترکہ عسکری کارروائیوں پر اثر انداز ہو گی۔ ان ملیشیاؤں کی تاسیس سلیمانی کے زیر نگرانی عمل میں آئی تھی۔

اس سلسلے میں امریکا میں مقیم شامی سیاسی تجزیہ کار عہد الہندی کا کہنا ہے کہ ایرانی جنرل سلیمانی اور الحشد الشعبی کے نائب سربراہ ابو مہدی المہندس کی ایک ساتھ ہلاکت سے شام میں روسی نفوذ میں اضافہ ہو گا جب کہ شام میں ایرانی ملیشیائیں امریکا اور اسرائیل کے حملوں کی زد میں ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے انٹرویو میں الہندی کا کہنا تھا کہ خطے میں ایران کے اہم ترین سیکورٹی اور عسکری ذمے داران شمار ہونے والے سلیمانی اور المہندس کی موت کا شام میں ایران نواز ملیشیاؤں پر شدید نفسیاتی اثر ہو گا، اور یہ شام کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی ان ملیشیاؤں کے حوصلوں کو کمزور کر دے گی۔

یاد رہے کہ بغداد میں امریکی حملے کے چند گھنٹوں بعد ہی ایران کے رہبر اعلی علی خامنہ ای نے میجر جنرل اسماعیل قآنی کو قاسم سلیمانی کی جگہ القدس فورس کا نیا سربراہ مقرر کر دیا۔ ادھر عراقی فوج نے اپنے اعلان میں ہادی العامری کو ابو مہدی المہندس کی جگہ الحشد الشعبی ملیشیا کا نیا نائب سربراہ نامزد کر دیا۔

شامی سیاسی تجزیہ کار عہد الہندی کے مطابق "سلیمانی کی جگہ القدس فورس کے اعلی منصب پر کسی متبادل کا تقرر تو آسان کام ہے مگر اس متبادل کو سلیمانی جیسی حیثیت اور اختیار ہر گز حاصل نہ ہو گا۔ لہذا سلیمانی جیسی بڑی شخصیت کے نہ ہونے سے خطے میں ایران نواز ملیشیاؤں کا کام متاثر ہو گا"۔ الہندی کا کہنا ہے کہ شام میں ایران نواز ملیشیائیں قاسم سلیمانی کی مہارت اور تجربے سے محروم ہو چکی ہیں۔ وحشیانہ کارروائیوں کے باوجود سلیمانی کرشماتی شخصیت کا حامل تھا"۔

قاسم سلیمانی اپنی موت تک القدس فورس کی قیادت کرتا رہا۔ یہ فورس بیرون ملک ایرانی سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں کی براہ راست ذمے دار ہے۔ سلیمانی کئی برس تک متعدد عرب ممالک بالخصوص عراق، لبنان اور شام میں ایرانی نفوذ پھیلانے کا ماسٹر مائنڈ رہا۔