.

سعودی عرب نے لیبیا کے معاملے میں غیر ملکی مداخلت کو مسترد کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے باور کرایا ہے کہ وہ لیبیا کے معاملے میں غیر ملکی مداخلتوں کو مسترد کرتا ہے۔ ان مداخلتوں کے نتیجے میں شدت پسند جنگجوؤں کی لیبیا منتقلی ہوئی ، سلامتی کونسل کی متعلقہ قرار دادوں کی خلاف ورزی ہوئی اور عسکری جارحیت میں شدت آنے کے ساتھ لیبیا کے برادر عوام کے مصائب میں اضافہ ہوا۔

سعودی عرب کا یہ موقف بدھ کے روز سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران سامنے آیا۔ یہ اجلاس مشرق وسطی کی صورت حال اور مسئلہ فلسطین کے حوالے سے بحث کے سلسلے میں منعقد ہوا۔ اس موقع پر اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب عبداللہ بن یحیی المعلمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مملکت ایک بار پھر لیبیا کے عوام کی معاونت اور اس کے ارادے کے احترام پر مبنی اپنے موقف کو دہراتی ہے۔ سعودی عرب تمام لیبیائی فریقوں سے برابری کی مسافت پر کھڑے ہو کر مطالبہ کرتا ہے کہ وہ جذبات کو قابو میں رکھتے ہوئے تحمل مزاجی کا مظاہرہ کریں۔ ملکی مفاد کو غالب رکھیں اور لیبیا کی اراضی کی وحدت، سلامتی اور خود مختاری کے تحفظ کے ساتھ ساتھ اسے بیرونی مداخلتوں سے بچائیں۔ اسی طرح تنازع کو روکنے کے واسطے اور بات چیت اور سفارتی راستے سے بحران کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی حالیہ کوششوں کو سپورٹ کریں۔

سعودی مندوب المعلمی کے مطابق اسرائیل نے فلسطینیوں کے خلاف قانون سازی اور پالیسیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ وہ اپنی غیر قانونی بستیوں کے پھیلانے اور فلسطینی عوام کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کے درپے ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو مسئلہ فلسطین کے حوالے سے بین الاقوامی قرار دادوں پر عمل درامد کا پابند کرے بصورت دیگر خطے کو اس طویل تنازع کے خطرات کا سامنا رہے گا۔

سعودی عرب کے مندوب نے باور کرایا کہ مسئلہ فلسطین مملکت کے لیے اولین ترجیح کا حامل مسئلہ ہے اور مملکت اس مسئلے اور فلسطینی عوام کے حقوق کا دفاع کرتی رہے گی۔ یہ کوشش جاری رہے گی یہاں تک کہ سلامتی کونسل کی قرار دادوں اور عرب امن منصوبے کے مطابق 4 جون 1967 کی سرحدوں پر ایک خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آ جائے جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو۔ اسی طرح شام میں گولان کے علاقے اور لبنان کی اراضی سے بھی اسرائیل کا قبضہ اختتام پذیر ہو۔

اقوام متحدہ میں سعودی مندوب نے ادلب میں شہریوں پر شامی حکام کی جانب سے حالیہ حملوں کی بھی مذمت کی۔ اس موقع پر فائر بندی کا اور بات چیت کے ذریعے بحران کو حل کرنے کا مطالبہ کیا گیا تا کہ دکھوں کے مارے شامی عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔

المعلمی کے مطابق عراق میں حالیہ حملے اور ایران کی جانب سے عراق کی خود مختاری کی مسلسل خلاف ورزی ایک خطرناک پیش رفت ہے جس کے ناقابل بیان بھیانک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

سعودی مندوب کا کہنا تھا کہ یمن میں جارحیت کو کم کرنے کے لیے بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر مسلسل کوششیں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ اس سلسلے میں اعتماد سازی کی کاوشیں جاری ہیں جس کے نتیجے میں گذشتہ عرصے میں عسکری، سیاسی اور انسانی صورت حال میں بہتری پیدا ہوئی ہے۔