.

شامی فوج کا سراقب کے مشرق میں واقع گاؤں پر دوبارہ کنٹرول

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز نے شمال مغربی صوبہ ادلب میں واقع شہر سراقب کے مشرق میں ایک گاؤں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق اسی گاؤں میں ترکی کی ایک فوجی چوکی قائم ہے۔

ترکی نے شام کی سرحد کے ساتھ تعینات اپنے فوجی یونٹوں کے ساتھ شمولیت کے لیے نئی کمک بھیجی ہے۔ان میں ایک سو گاڑیاں بھی شامل ہے۔ترکی کے نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی نیوز نے بدھ کو ٹویٹر پر اس نئی فوجی کمک کی شام میں آمد کی اطلاع دی ہے۔

گذشتہ جمعہ کے بعد سے صوبہ ادلب میں اسدی فورسز نے 88علاقوں پرکنٹرول حاصل کر لیا ہے جبکہ اس کے ہمسائے میں واقع صوبہ حلب میں شامی فوج نے صرف 12 علاقوں کا کنٹرول باغیوں سے واپس لیا ہے۔

شامی فوج کی اس پیش قدمی سے چندے قبل ہی ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے خبردار کیا ہے کہ اگر شامی فوج نے صوبہ ادلب میں ترکی کی مسلح افواج پر دوبارہ حملہ کیا تو اس کا جواب دیا جائے گا۔ٹی آر ٹی کے مطابق صدر ایردوآن نے ایک بیان میں کہا کہ ’’شمالی شام میں ہمارے فوجیوں پر حملے کا ردعمل ایک نئے مرحلے کا آغاز ہوگا۔‘‘

ترکی اس وقت سخت مشکل صورت حال سے دوچار ہے۔شام میں ترکی کے اتحادی شامی حزب اختلاف کے گروپ ادلب میں اسدی فوج کے زمینی اور فضائی حملوں کی زد میں ہیں۔حملہ آور فوج کو روس کی فضائی قوت کی مدد حاصل ہے جبکہ ادلب میں جنگ بندی کی نگرانی کے لیے ترکی نے بارہ فوجی چوکیاں قائم کررکھی ہیں۔ یہ ترکی کے روس اور ایران کے ساتھ 2017ء میں طے شدہ ایک سمجھوتے کے تحت قائم کی گئی تھیں۔ان میں بعض کا اس وقت شامی فوج نے گھیراؤ کررکھا ہے۔