.

الحشد الشعبی ملیشیا کے نئے سربراہ ابو فدک کے سر پر سلیمانی کے بوسے کی تصویر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں الحشد الشعبی ملیشیا کی جانب سے عبد العزيز المحمداوی عُرف "ابو فدک" کو ملیشیا کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ ابو فدک کا تقرر ابو مہدی المہندس کی جگہ عمل میں آیا ہے جو تین جنوری کو بغداد ہوائی اڈے کے احاطے میں امریکی فضائی حملے کے نتیجے میں ہلاک ہو گیا تھا۔ حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کا سربراہ قاسم سلیمانی بھی مارا گیا۔

عراقی حزب اللہ ملیشیا نے ہفتے کے روز جاری ایک بیان میں ابو فدک کے چُناؤ پر مبارک باد پیش کی۔ تاہم دوسری جانب دیگر گروپوں نے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

نجف میں مذہبی مرجع کے زیر انتظام گروپوں کے مجموعے "فصائل العتبات" نے ایک بیان میں کہا ہے کہ الحشد الشعبی کے سربراہ کا چُناؤ دیگر گروپوں کے علم میں لائے بغیر عمل میں آیا ہے۔ مزید یہ کہ اس سلسلے میں گروپوں کی رائے نہیں لی گئی۔

الحشد الشعبی ملیشیا نے جمعرات کی شام اعلان کیا تھا کہ ابو فدک کو ابو مہدی المہندس کی جگہ ملیشیا کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ عراقی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ملیشیا کے نائب صدر ابو علی البصری نے بتایا کہ ملیشیا کے اجلاس میں متقفہ طور پر ابو فدک کا چُناؤ کیا گیا۔ مزید یہ کہ عراقی مسلح افواج کے سربراہ آئندہ دو روز میں اس حوالے سے دستخط کر دیں گے۔

اس خبر کے اعلان کے فوری بعد الحشد الشعبی ملیشیا کے حامیوں نے سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل کی۔ تصویر میں مقتول ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کو ابو فدک کے سر پر بوسہ دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

عراق کے امور کے حوالے سے ابو فدک کو قاسم سلیمانی کے بہت قریب سمجھا جاتا تھا۔

ابو فدک نے ماضی میں بدر تنظیم کی صفوں میں شامل رہ کر بھی کام کیا ہے جس کی سربراہی اہدی العامری کے پاس ہے۔ یہ تنظیم بھی براہ راست طور پر ایرانی کی حمایت یافتہ ہے۔

عراق میں حزب اللہ بریگیڈ تشکیل دینے کے بعد ابو فدک کے ایران کے ساتھ قریبی روابط پیدا ہو گئے۔ عراقی ذرائع کا کہنا ہے کہ الحشد الشعبی کی سربراہی کے لیے ابو فدک کا نام تہران کی جانب سے پیش کیا گیا۔ مزید یہ کہ ابو فدک کے چُناؤ کو الصدی گروپ کے لیے اشتعال انگیز شمار کیا جا رہا ہے۔