.

عراق: ہزاروں اہلِ تشیع کی مذہبی اجتماع میں شرکت،کرونا کرفیو کو مات دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں ہزاروں اہل تشیع نے کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے نافذ کرفیو کے حکم کو تار تار کردیا ہے اور اس کی مخالفت کرتے ہوئے دارالحکومت بغداد میں امام موسیٰ کاظم رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر ان کی یاد منانے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔

عراقی حکومت نے امام موسیٰ کاظم کے مزار کے احاطے کا بیرونی دروازہ کھلا رکھا تھا اور زائرین کو اس کے صحن میں جانے کی اجازت دی ہے لیکن مزار کو بدستور بند رکھا ہے اور وہاں کسی کو داخل نہیں ہونے دیا۔

ایک عراقی عہدہ دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ اس مرتبہ گذشتہ برسوں کے مقابلے میں زائرین کی بہت تھوڑی تعداد بغداد آئی ہے۔ان میں کوئی غیرملکی شامل نہیں اور یہ عراق کے مختلف صوبوں ہی سے تعلق رکھتے ہیں۔

امام موسیٰ کاظم رحمۃ اللہ علیہ کی یاد منانے کے لیے ہر سال دنیا بھر سے بالعموم لاکھوں اہل تشیع بغداد آتے ہیں اور ان کے مزار کو بوسہ دیتے ہیں۔یادرہے کہ وہ 799ء میں عباسی خلیفہ ہارون الرشید کی حکومت میں دورانِ حراست انتقال کرگئے تھے۔

ان کے یوم وصال کے موقع پر ایران سے بھی زائرین کی ایک بڑی تعداد آتی ہے لیکن اس وقت ایران کرونا وائرس کی وبا سے نمٹ رہا ہے جبکہ عراق نے اس مہلک وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ایران سے لوگوں کی آمد ورفت پر پابندی عاید کررکھی ہے۔

عراقی حکومت نے گذشتہ ہفتے 24 مارچ تک تمام پروازوں کی آمد ورفت پر پابندی عاید کردی تھی اور ملک بھر میں مزارات کو بند کردیا تھا۔

قبل ازیں عراق کے سرکردہ شیعہ رہ نما آیت اللہ علی سیستانی نے اپنے ہم وطنوں پر زوردیا کہ وہ زیادہ تعداد میں اکٹھے نہ ہوں کیونکہ اس صورت میں لوگوں کے کرونا وائرس سے متاثر ہونے کے زیادہ امکانات ہوسکتے ہیں۔

جمعہ کو ان کے نمایندے نے ایک اور بیان جاری کیا تھا اور اس میں لوگوں پر زوردیا تھا کہ وہ آپس میں سماجی فاصلہ رکھنے سے متعلق طبی مشورے پر عمل کریں لیکن انھوں نے بہ طور خاص شیعہ زائرین سے واضح الفاظ میں یہ نہیں کہا تھا کہ وہ گھروں ہی میں رہیں اور بغداد کا رُخ نہ کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں