.

ایرانی جوہری تنصیبات کی معائنہ کاری، سعودی عرب کی IAEA کی مکمل حمایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے ایرانی جوہری تنصیبات کی معائنہ کاری کے حوالے سے عالمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی کوششوں کی مکمل حمایت اور الریاض کی طرف سے عالمی ایجنسی کو ہرممکن مدد فراہم کرنے کی یقینی دہانی کرائی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عالمی توانائی ایجنسی میں سعودی عرب کے مندوب اور جمہوریہ آسٹریا میں خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے سفیر شہزادہ عبداللہ بن خالد بن سلطان بن عبدالعزیز نے ایک بیان میں عالمی توانائی ایجنسی کی ایرانی جوہری تنصیبات کی معائنہ کاری کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی توانائی ایجنسی آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رفائیل گروسی کا ایران کے ساتھ جوہری عدم پھیلائو معاہدے پرعمل درآمد پر زوردینا خوش آئند ہے۔ ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے کی شرائط اور ضوابط میں یہ شامل ہے کہ ایران جوہری عدم پھیلائو معاہدے کی شرائط پرعمل درآمد کرے۔

انہوں نے کہا کہ جوہری عدم پھیلائو معاہدے پر ایران کو کاربند بنانے کے لیے تہران کی ہرطرح کی جوہری سرگری کے بارے میں عالمی توانائی ایجنسی کو با خبر ہونا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران جوہری تنصیبات کی معائنہ کاری سے فرار اختیار کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ اگر ایران ایسا کرتا ہےتو اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تہران ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اپنی متنازع جوہری سرگرمیوں کو عالمی اداروں کی نظروں سے چھپا رہا ہے۔

شہزادہ عبداللہ بن خالد نے کہا کہ ایران کی طرف سے گذشتہ چار ماہ سے مسلسل دو اہم ترین جوہری تنصیبات کی معائنہ کاری سے فرار اختیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایران کے پاس ایسا کرنے کا کوئی منطقی ، اخلاقی اور قانونی جواز نہیں۔ ایران اس حوالے سے جو من گھڑت جواز پیش کررہا ہے انہیں کسی صورت میں قبول نہیں کیا جاسکتا۔ ایرانی جوہری تنصیبات کی معائنہ کاری اور چھان بین کے حوالے سے عالمی توانائی ایجنسی کی کوششوں پر سعودی عرب کی طرف سے ہرممکن حمایت اور مدد فراہم کی جائے گی۔