.

ترکی کی عراق میں مداخلت ناقابلِ قبول ہے: وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی نے کہا ہے کہ ترکی کی ان کے ملک میں مداخلت بالکل ناقابل قبول ہے۔ انھوں نے جمعرات کے روز یہ بات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں بند کمرے کی ملاقات سے قبل کہی ہے۔

مصطفیٰ الکاظمی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’’ہم اس کو قبول نہیں کرسکتے اور عراق کا آئین بھی اس کی اجازت نہیں دیتا۔ وہ واضح طور پر یہ کہتا ہے کہ ہماری سرزمین کسی محاذ آرائی کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔‘‘

انھوں نے کہا کہ عراق امریکا کی سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے۔ان کی ملاقات سے ایک روز قبل ہی بدھ کو عراق اور امریکا کی کمپنیوں نے توانائی اور تیل سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے سمجھوتوں پر دست خط کیے ہیں۔

امریکا کے محکمہ توانائی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا کی پانچ کمپنیوں نے عراقی حکام سے تیل اور بجلی کی وزارتوں سے متعلق آٹھ ارب ڈالر مالیت کے سمجھوتوں پر دست خط کیے ہیں۔ان میں عراق اور امریکا کی جنرل الیکٹرک کارپوریشن کے درمیان ایک ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کا ایک سمجھوتا بھی شامل ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا عراق کے ساتھ کھڑا ہے،انھوں نے اپنے اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ امریکا عراق سے اپنے تمام فوجیوں کا انخلا چاہتا ہے لیکن انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ عراق میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کا مقصد ایران سے لاحق کسی بھی خطرے سے نمٹنا ہے۔

واضح رہے کہ عراق کی وزارتِ خارجہ نے جون میں شمالی کردستان میں کرد باغیوں کے خلاف ترکی اور ایران کی متعدد کارروائیوں کے بعد بغداد میں متعیّن دونوں ملکوں کے سفیروں کو طلب کیا تھا۔اس کا کہنا تھا کہ یہ عراق کی خود مختاری پر حملے ہیں مگر اس کے باوجود ترکی نے شمالی عراق میں کرد باغیوں کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں اور اس کا کہنا ہے کہ وہ یہ آپریشن سکیورٹی مقاصد کے لیے کررہا ہے۔