.

ایران میں 2019ء کے اواخر میں انسانی حقوق کی خوف ناک خلاف ورزیاں سامنے آئیں: ایمنسٹی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایرانی سیکورٹی فورسز پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے گذشتہ برس عوامی احتجاج کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران گرفتار ہونے والے سیکڑوں افراد سے اعترافی بیانات دلوانے کے لیے تشدد کا استعمال کیا۔

ایمنسٹی کے مطابق سیکورٹی فورسز نے نومبر 2019ء میں پٹرول کی قیمتوں میں بڑے اضافے کے بعد انٹرنیٹ کے تقریبا مکمل منقطع ہونے کے بیج پورے ایران میں اجتماعی گرفتاریاں کیں۔

تنظیم نے واضح کیا کہ اس نے گرفتار ہونے والے 7 ہزار افراد میں درجنوں افراد کی گواہیاں اکٹھا کیں۔ ان میں ایسے بچے بھی شامل ہیں جن کی عمر 10 برس سے زیادہ نہیں۔

ایمنسٹی نے اس حوالے سے انسانی حقوق کی خوف ناک خلاف ورزیوں کا انکشاف کیا۔ ان میں جبری حراست، جبری روپوشی اور تشدد اور ایذاء رسانی شامل ہے۔ تنظیم کے مطابق گرفتار شدگان کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ تشدد کا مقصد ان سے جبری طور پر یہ اعترافی بیان لینا تھا کہ وہ احتجاج میں ملوث رہے یا اپوزیشن کی جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں اور یا پھر ان کا غیر ملکی حکومتوں اور میڈیا سے رابطہ ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم نے بتایا کہ سیکڑوں افراد کو قید اور کوڑوں کی سزا سنائی گئی جب کہ دیگر کو موت کی سزا بھی دی گئی۔ یہ سب کچھ ظالمانہ عدالتی کارروائیوں کے ذریعے عمل میں آیا۔ بند دروازوں کے پیچھے ان عدالتی کارروائیوں کی سربراہی جانب دار ججوں نے کی۔

ادھر ایرانی وزارت داخلہ نے خبردار کیا ہے کہ عوام مہنگائی اور بدعنوانی کے خلاف نئے احتجاجی مظاہروں کی کال سے خبردار رہیں۔ وزارت داخلہ کے مطابق گذشتہ برس کے مقابلے میں مظاہروں کی کال میں 3 گنا اضافہ ہوا ہے۔