.

عراقی وزیر اعظم الحشد الشعبی ملیشیا کی گردن ناپنے لگے ، بغداد ایئرپورٹ پر دفتر کی بندش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی سیکورٹی ذرائع نے جمعے کے روز بتایا ہے کہ وزیر اعظم مصطفی الکاظمی نے بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر متعدد دفاتر بند کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ ان میں الحشد الشعبی ملیشیا کے زیر انتظام دفاتر بھی شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کی جانب سے جن دفاتر کی بندش کی ہدایت کی گئی ہے ان میں بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر الحشد الشعبی کے بیورو آفس کے علاوہ نیشنل سیکورٹی ادارے ، پبلک ٹرانسپیرنسی اتھارٹی اور اکاؤنٹیبلٹی اینڈ جسٹس اتھارٹی کے بیورو آفس شامل ہیں۔

اس کے ساتھ ہی الحشد الشعبی ملیشیا کی قیادت کی دو اہم شخصیات کو برطرف کر دیا گیا ہے۔ ان کے نام حامد الجزائری اور وعد القدو ہیں۔

ذرائع کے مطابق بغداد کے ہوائی اڈے سے الحشد الشعبی کو دور کیا جانا ان اقدامات کا حصہ ہے جن کا مقصد ملک میں اہم مقامات پر الحشد کے وجود کو کم کرنا ہے۔

ادھر عراق میں انسداد دہشت گردی کے ادارے کی اسپیشل فورس نے دارالحکومت بغداد کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ آپریشن کا مقصد گرین زون کے حساس ترین علاقے پر راکٹ داغنے والے عناصر کو تلاش کرنا ہے۔ ان حملوں میں غیر ملکی سفارتی مشنوں بالخصوص امریکی اور برطانوی سفارت خانے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تقریبا روزانہ کی بنیاد پر گرین زون اور امریکی افواج کی میزبانی کرنے والے عراقی فوجی اڈوں کو راکٹ حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

دوسری جانب عراقی الحکمہ گروپ نے ٹارگٹ کلنگ ، اغوا اور دھمکانے کی ان کارروائیوں کی مذمت کی ہے جن کے سبب عراق کا امن و استحکام متزلزل ہو رہا ہے۔ الحکمہ گروپ نے عراق میں سفارتی مشنوں پر جاری حملوں کی بھی مذمت کی ہے۔ گروپ کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیوں سے عالمی برادری کے سامنے عراق کی ساکھ پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

گروپ نے ریاست کی رٹ برقرار رکھنے اور سیکورٹی اداروں کو سپورٹ کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔