.

اسرائیلی فوج نے وادیِ اردن میں فلسطینیوں کا پورا گاؤں مسمار کردیا،80 افراد بے گھر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے دریائے اردن کے مغربی کنارے میں واقع وادیِ اردن میں فلسطینی بدوؤں کے ایک پورے گاؤں کو مسمار کردیا ہے جس کے نتیجے میں کم سے کم 80 افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔

فلسطینی حکام اور عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فوج نے بلڈوزروں کے ساتھ منگل کی شب یہ کارروائی کی تھی اور فلسطینیوں کے مکانات، خیمے اور شیڈ مسمار کردیے ہیں اور سولر پینل اکھاڑ دیے ہیں۔

فلسطینی وزیراعظم محمد اشتیہ نے اسرائیلی فوجیوں پر وادیِ اردن میں واقع گاؤں حمسہ الباقیہ کو مکمل طور پر مسمار کرنے کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے بعد قریباً اسی افراد بے یارومددگار ہوگئے ہیں۔

اسرائیلی فوج کی غربِ اردن میں شہری امور کی ذمے دار شاخ کوگیٹ نے اس غیر انسانی کارروائی کا یہ جواز پیش کیا ہے کہ فلسطنیوں کے منہدم کیے گئے مکانات اور شیڈ فائرنگ زون (فوجی تربیتی علاقے) میں غیر قانونی طور پر تعمیر کیے گئے تھے۔

واضح رہے کہ وادیِ اردن مغربی کنارے کے علاقے سی میں واقع ہے۔اس پر اسرائیلی فوج کا مکمل کنٹرول ہے۔اسرائیلی قانون کے تحت فلسطینی کسی اجازت نامے کے بغیر اس علاقے میں مکانات یا کوئی تعمیراتی ڈھانچا نہیں بناسکتے۔اگر وہ اس مقصدکے لیے اسرائیلی حکام کو کوئی درخواست دیتے ہیں تو اس کو بالعموم مسترد کردیا جاتا ہے۔

مسمار شدہ فلسطینی بستی کے ایک مکین عبدالغنی عودہ نے بتایا ہے کہ ’’اسرائیلی فوجی گاڑیوں پر بلڈوزروں کے ساتھ آئے تھے اور انھوں نے مکینوں کو اپنے گھر خالی کرنے کے لیے صرف دس منٹ دیے تھے۔اس کے بعد انھوں نے مکانوں کو ڈھانا شروع کردیا تھا۔‘‘

انھوں نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’وہ کئی نسلوں سے اس علاقے میں آباد ہیں۔انھوں نے اسرائیل پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ وادیِ اردن سے فلسطینی آبادی کو بے دخل کرنا چاہتا ہے۔‘‘

فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی قبضے کی مخالف غیر سرکاری تنظیم بی تسلیم کا کہنا ہے کہ حمسہ الباقیہ میں رات گئے اسرائیلی فوج کی کارروائی غیر معمولی ہے اوراس نے ایک ہی وقت میں پہلی مرتبہ اتنی زیادہ تعداد میں مکانوں کو نشانہ بنایا ہے اور انھیں مسمار کردیا ہے۔

بی تسلیم نے ایک بیان میں کہا کہ ’’ایک پوری کمیونٹی کو بیک وقت بے دخل کیا جانا ایک منفرد اور شاذ واقعہ ہے۔بظاہر یہ لگتا ہے کہ اسرائیل نے اس حقیقت سے فائدہ اٹھایا ہے کہ ہر کسی کی توجہ کسی اور جانب مبذول تھی اور اس نے آگے بڑھ کر یہ غیر انسانی حرکت کردی ہے۔‘‘تنظیم کا اشارہ امریکا میں منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات کی جانب تھا۔

بی تسلیم نے ایک اوربیان میں کہا ہے کہ ’’پوری دنیا کرونا وائرس کے بحران سے نمٹ رہی ہے جبکہ اسرائیل نے اس وقت اور اپنی کاوشوں کو اپنی عمل داری میں رہنے والے مکینوں کی کوئی مدد کرنے کے بجائے فلسطینیوں کو ہراساں کرنے کے لیے وقف کررکھا ہے۔‘‘

بی تسلیم مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں صہیونیوں کی آبادکاری اور فلسطینیوں کے مکانوں کی مسماری کے اعداد وشمار فراہم کرتی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اس سال اب تک اسرائیلی فوج نے غربِ اردن میں بیسیوں مکانوں کو مسمار کردیا ہے جس کے نتیجے میں 798 فلسطینی بے گھر ہوچکے ہیں۔

2016ء کے بعد اسرائیلی فوج کی مقبوضہ مغربی کنارے میں مکانوں کی مسماری کی کارروائیوں میں بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی یہ سب سے زیادہ تعداد ہے۔اسرائیلی فوج نے گذشتہ سوموار کو بھی غربِ اردن کے علاقے رجیب میں ایک فلسطینی کا دومنزلہ مکان منہدم کردیا تھا۔

خلیل دویقات نامی اس فلسطینی پر رواں سال کے اوائل میں ایک یہودی کو چاقو گھونپ کر ہلاک کرنے کا الزام تھا۔وہ جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا لیکن بعد اسرائیلی فوج نے اس کو گرفتار کرلیا تھا اور اب اس کے خلاف ایک عدالت میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے عدالت سے متاثرہ فلسطینی خاندان کی اپیل مسترد ہونے کے بعد مکان منہدم کیا ہے۔اسرائیل کا یہ مؤقف رہا ہے کہ مکان مسمار کرنے کی کارروائی فلسطینیوں کو یہودیوں یا صہیونی سکیورٹی فورسز پر حملوں سے باز رکھنے کے لیے سدِجارحیت کے طور پر کی جاتی ہے جبکہ انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں اور ناقدین اس کے اس عمل کو فلسطینی خاندانوں کو اجتماعی سزا دینے کے مترادف قرار دیتے ہیں۔