.

شام : عراق سے آنے والے ہتھیار داعش کی سرنگوں کے راستے 'فاطمیون' ملیشیا کو موصول

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں گذشتہ روز پیر کو علی الصبح مقامی وقت کے مطابق 5:30 پر دریائے فرات کے مغرب میں تعینات ایران کی ہمنوا ملیشیا کے لیے اسلحے کی نئی کھیپ پہنچی۔ یہ کھیپ دہشت گرد تنظیم داعش کی جانب سے کھودی گئی سرنگوں کے راستے لائی گئی۔

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق چند روز کے اندر یہ دوسرا موقع ہے جب "فاطمیون" ملیشیا کے لیے ہتھیاروں کی نئی کھیپ پہنچائی گئی۔ لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے بعد یہ شام میں سرگرم ایران کی ہمنوا دوسری اہم ترین ملیشیا ہے۔ تازہ کھیپ سبزیوں کے تجارتی ٹرکوں کے ذریعے لائی گئی تاہم ان میں راکٹ گرینیڈز، میزائل اور گولہ بارود تھا۔

معلومات کے مطابق یہ کھیپ عراق سے آتے ہوئے ایک غیر قانونی گزر گاہ کے راستے داخل ہوئی۔ بعد ازاں اس نے دیر الزور کے مشرق میں واقع شہر المیادین کے نزدیک واقع علاقے المزارع کا رخ کیا۔ یہ علاقے میں ایرانی فورسز اور ان کی ہمنوا ملیشیاؤں کا سب سے بڑا گڑھ شمار ہوتا ہے۔

المرصد کے ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ کھیپ کو المزارع کے علاقے میں زیر زمین سرنگوں میں رکھا گیا۔ یہ سرنگیں داعش تنظیم نے علاقے میں اپنے کنٹرول کے زمانے میں کھودی تھیں۔

دو روز قبل المرصد گروپ نے تصدیق کی تھی کہ شام میں ایرانی فورسز اور اس کی ہمنوا ملیشیاؤں نے عراق سے آنے والی ہتھیاروں کی ایک نئی کھیپ وصول کی۔ جمعے کی سہ پہر 3 ٹرک داخل ہوئے جن کے بارے میں فرض کیا گیا کہ یہ سبزیوں اور پھلوں سے لدے ہوئے ہیں۔ تاہم درحیققت یہ ٹرک ایرانیوں کے زیر انتظام ہتھیار اور گولہ بارود لے کر آئے تھے۔ یہ کھیپ دیر الزور کے مشرق میں البوکمال شہر کے نواحی دیہی علاقے میں العباس گاؤں کے نزدیک عراق اور شام کے بیچ ایک غیر قانونی گزر گاہ کے راستے سے داخل ہوئی تھی۔ ایران ان گزر گاہوں کو اسلحہ اور گولہ بارود منتقل کرنے کے واسطے استعمال کرتا ہے۔ تمام کھیپ کو مذکورہ علاقے میں اتار لیا گیا۔

یاد رہے کہ ایک نا معلوم ڈرون طیارے نے جمعرات کی صبح عراق سے آنے والی ایک گاڑی کو حملے کا نشانہ بنایا۔ گاڑی میں ہتھیار اور گولہ بارود کی کھیپ لائی جا رہی تھی۔ یہ واقعہ دیر الزور کے مشرق میں واقع شہر البوکمال کے نزدیک ایک غیر قانونی گزر گاہ کے قریب پیش آیا۔ گاڑی کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں زور دار دھماکے سنائی دیے گئے اور گاڑی میں موجود کھیپ تباہ ہو گئی۔ علاو ازیں ایران نواز ملیشیا کے 4 ارکان بھی مارے گئے۔