.

تشدد اور فساد بہت ہو گیا، ہتھیاروں کو خاموش ہو جانا چاہیے: پوپ فرانسس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ویٹی کن کے پوپ فرانسس جمعے کے روز اپنے عراق کے تاریخی دورے پر دارالحکومت بغداد پہنچ گئے۔ عراقی صدر برہم صالح اور وزیراعظم مصطفی الکاظمی نے بغداد کے ہوائی اڈے پر ان کا استقبال کیا۔ دونوں شخصیات سے ملاقات کے بعد پوپ نے عراقیوں کے لیے اپنے خطاب میں امن پھیلانے، تشدد کو جڑ سے اکھاڑ دینے اور ملک میں تمام سیاسی اور مذہبی طبقات کے حقوق کا تحفظ کرنے پر زور دیا۔

پوپ نے یہ بھی کہا کہ بدعنوانی کی آفت پر روک لگائی جائے اور اداروں کو مضبوط بنایا جائے۔ انہوں نے تشدد، انتہا پسندی اور عدم رواداری کا سلسلہ روک دینے پر زور دیا۔

پوپ نے کئی برس کی جنگ کے سبب تباہ حال ملک میں گفتگو کرتے ہوئے "ہتھیاروں کے خاموش ہو جانے" کی امید کا اظہار کیا۔

اس سے قبل روم سے بغداد کے سفر کے دوران طیارے میں صحافیوں کو دیے گئے اپنے مختصر بیان میں 84 سالہ پوپ نے کہا تھا کہ "یہ ایک علامتی دورہ اور ایسی سرزمین کے حوالے سے فریضہ ہے جو بہت برسوں تک مصائب سے دوچار رہی"۔

یاد رہے کہ جمہوریہ عراق کی تاسیس کے بعد ویٹی کن کے پوپ کا یہ پہلا دورہ ہے۔

پوپ کے دورے کے موقع پر عراقی حکام نے سیکورٹی کے سخت ترین اقدامات کیے ہیں۔ پوپ نے اپنے چہرے پر حفاظتی ماسک پہن رکھا تھا۔ یاد رہے کہ چند ہفتے قبل ویٹی کن میں انہیں کرونا کے خلاف ویکسین بھی دی گئی تھی۔

واضح رہے کہ 1.3 ارب مسیحیوں کے روحانی پیشوا اپنے دورے کے دوران میں عراق میں 1445 کلو میٹر کا فاصلہ طے کریں گے۔ ان کے دورے کے مقامات میں اہم ترین نجف شہر ہے۔ وہاں وہ عراق کے شیعہ مرجع علی السیستانی (90 سالہ) سے ملاقات کریں گے۔