.

سعودی عرب میں 'سافٹ پاور'کے اظہار کا آرٹ پروگرام 'نور الریاض' کل سے شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض میں 'لائٹ آف ریاض' کے عنوان سے 17 روزہ آرٹ پروگرام کل 18 مارچ 2021ٰٕء سے مملکت کے سافٹ پاور کے پیغام کو اجاگر کرنے کے مشن کے طور پر ہو رہا ہے۔ شوبز کے حوالے سے ہونے والے اس ایونٹ کا مقصد لائٹ آرٹ کے مقامی ٹیلنٹ کو اجاگر کرنا اور غیرملکی ماہرین کے تجربات سے استفادہ کرنا ہے۔

'لائٹ آف الریاض' پروگرام کے لیے الریاض کے متعدد مقامات مختص کیے گئے ہیں جن میں 'لائٹ آرٹ' کے شعبے سے تعلق رکھنے والے 20 ممالک کے سیکڑوں آرٹسٹ شرکت کریں گے۔ 'لائٹ آرٹ' کی اس سرگرمی میں شرکت کرنے والے 40 فی صد فن کاروں کا تعلق سعودی عرب سے ہوگا۔
سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی'ایس پی اے' کے مطابق 'الریاض لائٹ' فیسٹیول الریاض آرٹ کے چار بڑے پروگرامات میں سے ایک ہے۔

الریاض آرٹ پروگرام کا افتتاح خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے 19 مارچ 2019ء کو کیا تھا۔ یہ پروگرام سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کے ریاض‌کو معاصر بین الاقوامی آرٹ پلیٹ فارم میں تبدیل کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

'لائٹ آف الریاض' پروگرام میں لائٹ آرٹ کی تمام اقسام سے تعلق رکھنے والے 60 فن کار شرک کریں گے۔

ان میں تاریخ ، انجینئرنگ اور لائٹ ورکس ، مجسمے ، لائٹنگ شوز ، انٹرایکٹو پرفارمنس ، متحرک تصاویر، آؤٹ ڈور ورکس اور متعدد لائٹ آرٹ فارم شامل ہیں۔ اس پروگرام سے ریاض کے رہائشی اور زائرین لطف اٹھا سکتے ہیں۔ یہ شہر کے مختلف حصوں میں قریب واقع شاہ عبداللہ مالیاتی مرکزاورالمربع میں شاہ عبد العزیز تاریخی مرکز میں منعقد کیے جائیں گے۔

سعودی ولی عہد کی ہدایت کے مطابق 'نور الریاض' پروگرام کا جشن فیسٹیول 'نور علی نور' نمائش مرکز میں منعقد کیا جاے گا۔ یہ گذشتہ صدی کی ستر کی دھائی کے بعد اب تک کا لائٹ آرٹ کا سب سے بڑا آرٹ پروگرام ہوگا۔

لائٹ آف الریاض' پروگرام میں لائٹ آرٹ کی تمام اقسام سے تعلق رکھنے والے 60 فن کار شرک کریں گے
لائٹ آف الریاض' پروگرام میں لائٹ آرٹ کی تمام اقسام سے تعلق رکھنے والے 60 فن کار شرک کریں گے

شاہ عبداللہ مالیاتی مرکز کے کانفرنس ہال میں پروگرام کا کل آغاز 18 مارچ سے 12 جون 2021ء تک جاری رہےگا۔ اسے چار برانچوں میں روشنی کے شعور،روشنی کے تجربے،روشنی کے انعکاس اور روشنی کے ماحول میں تقسیم کیا گیا ہے۔ نمائش میں داخل ہونے والا کوئی بھی زائرروشنی کی شعاعوں میں فن کاروں کے متعدد گروپوں کی سرگرمیوں کو دیکھ سکے گا۔

پروگرام میں ورکشاپس ، مباحثے کے سیشنز ، ٹورز ، پریزنٹیشنز ، رضاکارانہ پروگرام ، سنیما اور میوزیکل ایونٹس ، تفریحی اور تعلیمی سرگرمیاں پیش کی جائیں گی جو کنبے کے افراد کے ساتھ مل کر دیکھی جاسکیں گی۔

سعودی عرب کے وزیر ثقافت شہزادہ بدر بن عبداللہ بن فرحان نے کہ 'لائٹ آف ریاض' پروگرام ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دارالحکومت کو دنیا کے بہترین دارالحکومتوں کے معیار کے مطابق پیش کرنے کی خواہش کا اظہار ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے ہم الریاض میں بہترین معیار زندگی کا نمونہ پیش کرنے کے ساتھ ساتھ یہ ثابت کررہے ہیں کہ ریاض ثقافتی سرگرمیوں کا ایک معاصر پلیٹ فارم ہے۔ نیز یہ سرگرمی سعودی عرب کی اصلاحت اور ترقی کے پروگرام'ویژن 2030' کے اہداف کا حصہ ہے۔

پروگرام میں ورکشاپس ، مباحثے کے سیشنز ، ٹورز ، پریزنٹیشنز ، رضاکارانہ پروگرام ، سنیما اور میوزیکل ایونٹس ، تفریحی اور تعلیمی سرگرمیاں پیش کی جائیں گی جو کنبے کے افراد کے ساتھ مل کر دیکھی جاسکیں گی
پروگرام میں ورکشاپس ، مباحثے کے سیشنز ، ٹورز ، پریزنٹیشنز ، رضاکارانہ پروگرام ، سنیما اور میوزیکل ایونٹس ، تفریحی اور تعلیمی سرگرمیاں پیش کی جائیں گی جو کنبے کے افراد کے ساتھ مل کر دیکھی جاسکیں گی

اس سلسلے میں سعودی سوسائٹی برائے فائن آرٹس میں محکمہ منصوبہ بندی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر ھنا الشبلی نے کہا کہ 'سافٹ پاور' کا مطلب ہے کہ ریاست پاس ایسی طاقت ہونی چاہیے جواس کے نظریات ، اصولوں ، اخلاقیات ، رواداری ،امن کی حمایت ،انسانی حقوق ، انفراسٹرکچر ، ثقافت اور فنون لطیفہ کے شعبوں میں اصولی موقف کا اظہار ثابت ہو۔

رواداری اور دوسروں کو قبول کرنے کا یہ اصل آج دوسروں کی توجہ حاصل کرنے، ان کے جذبات کو اپنانےاور اقوام عالم کے طرز عمل کو اپنانے کا ایک بنیادی نمونہ بن گیا ہے۔سافٹ پاور کسی ریاست کے لیے اپنا اثرو نفوذ بڑھانے کا موثر ذریعہ بن چکا ہے۔ سافت پاور کا تاثر کسی بھی ملک اور اس کی حکمت عملی۔اس کی ساکھ کو مستحکم کرنے اور علاقائی اور عالمی سطح پراس کے اثرات، اس کی خارجہ پالیسی کو موثر بنانے، سفارتی اور ثقافتی میدان میں اپنے اتحادیوں میں اضافہ کرنے کا ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کی قیادت نے وسیع تر ترقی اور اصلاحات کے پروگرام'ویژن 2030' کے اہداف میں سافٹ پاور کا اصول اختیار کیا گیا ہے۔