.

سعودی عرب کے جزیرہ 'تاروت' پر نایاب شکاری عقاب توجہ کا مرکز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی فوٹو گرافر کی جانب سے ایک عقاب کی مچھلی کے شکار کے دوران لی گئی تصویر نے دنیا کے اس نایاب شکاری پرندے کو عوام و خواص کی توجہ کا مرکز بنا دیا۔

سعودی فوٹو گرافر مہدی الصغیر نے مشرقی سعودی عرب کی القطیف گورنری میں جزیرہ تاروت کے ساحل پر شکار کے بعد اس عقاب کی تصویر اپنے کیمرے میں محفوظ کی۔ اس تصویر میں اس نایاب عقاب کو اپنے خونی چنگل میں ایک مچھلی کو پکڑے دکھایا گیا ہے۔

فوٹو گرافر نے اس منظر کے حصول کے لیے کافی تگ و دو اور انتظار کیا اور ساحل کے قریب اپنا کیمرہ نصب کرنے کے ساتھ خود بھی سبز گھاس اور ٹہنیوں میں ڈھانپ لیا۔

جب یہ نایاب عقاب مچھلی کا شکار کر کے اس کے اوپر سے گذرا تو اس نے اس کے متعدد شارٹس لیے۔ بعد ازاں سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی اس تصویر کو غیر معمولی طور پر پسند کیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے مہدی الصغیر کا کہنا تھا کہ پرندوں کی تصاویر کو محفوظ کرنا اور کا پرانا مشغلہ ہے۔ اس نے جزیرۃ العرب میں ایسے کئی دوسرے نایاب پرندوں کی تصاویر کا ایک بڑا ذخیرہ جمع کر رکھا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں‌ نے کہا کہ اس نایاب شکاری عقاب کی تصاویر اس نے پہلی بار نہیں لیں بلکہ سنہ 2012ء میں بھی اس نے اس پرندے کو جزیرہ تاروت میں دیکھا تھا۔

عوام میں مقبول ہونے والی تصویر کے بارے بارے میں بات کرتے ہوئے مہدی الصغیر کا کہنا تھا کہ میں جزیرہ تاروت میں واقع اپنے گھر سے المحیسنیات کے علاقے کے لیے کوچ کیا۔ سمندر کے کنارے پہنچ کر مجھے یہ نایاب عقاب اڑتا دکھائی دیا مگر وہ میری مخالف سمت میں تھا۔ میں نے کیمرہ نصب کیا۔ اس دوران پرندہ واپس میری سمت میں آیا اور میں نے مشکل سے اس کے تین شاٹس لیے جن میں سے ایک تصویر کو ٹویٹر صارفین نے بے حد پسند کیا۔

سعودی فوٹو گرافر مہدی الصغیر پٹرولیم کمپنی 'آرامکو' کے ریٹائرڈ ملازم ہیں۔ وہ ایک ٹانگ سے محروم ہیں اور تصاویر لینے کے لیے وہ ایک بیساکھی پر چلتے ہیں۔