.

حماس قیدیوں کے تبادلے کے لیے اسرائیل سے’’براہِ راست اورتیزرفتار‘‘مذاکرات کو تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ کی حکمراں فلسطینی جماعت حماس نے اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے لیے’’براہِ راست اورتیزرفتار‘‘ مذاکرات پرآمادگی ظاہر کردی ہے۔

غزہ میں حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ یحییٰ سنوار نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی سے سوموار کے روز گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اس وقت اس فائل کو آگے بڑھانے کا ایک حقیقی موقع موجود ہے۔ہم اس معاملے کی تکمیل کے لیے براہ راست ، فوری اور تیزرفتار مذاکرات کو تیار ہیں۔‘‘

انھوں نے مصر کی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ عباس کامل کے غزہ کے دورے کے بعد یہ بیان جاری کیا ہے۔عباس کامل نے حماس کی قیادت سے اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کو دیرپا بنانے کے لیے بات چیت کی ہے۔

مصرکی ثالثی میں اسرائیل اور حماس سمیت فلسطینی تنظیموں کے درمیان21 مئی کوغزہ میں جنگ بندی ہوئی تھی۔اسرائیل کے غزہ پر گیارہ روزہ تباہ کن حملوں میں 254 فلسطینی شہید ہوگئے تھے۔ان میں 66 کم سن بچے بھی شامل تھے جبکہ اسرائیلی علاقوں پر حماس اور دوسری فلسطینی تنظیموں کے راکٹ حملوں میں ایک کم سن بچے سمیت 12 اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔

حماس کے ایک عہدے دارنے اپنی شناخت ظاہرنہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ ’’غزہ مذاکرات میں تین نکات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے:طویل المیعاد جنگ بندی ، قیدیوں کا تبادلہ اور غزہ کی تعمیرِنو۔‘‘

یحییٰ سنوار نے واضح کیا ہے کہ ’’حماس کو تعمیرنو اور اسرائیل کے گذشتہ ایک عشرے سے زیادہ عرصے سے جاری محاصرے کے خاتمے پرکوئی اعتراض نہیں ہے۔ان امور کو قیدیوں کے تبادلے سے متعلق بات چیت کے ساتھ ساتھ آگے بڑھایا جانا چاہیے۔‘‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم ان دونوں پہلوؤں کے درمیان تعلق کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کرتے ہیں۔‘‘البتہ انھوں نے یہ وضاحت نہیں کی ہے کہ حماس کتنے قیدیوں کو رہاکرے گی اور ان کے بدلے میں اسرائیلی جیلوں سے کتنے فلسطینی قیدیوں کو رہا کرایا جائے گا۔

اسرائیلی وزیرخارجہ گابی اشکنازی نے بھی اتوار کو قاہرہ میں مصری وزیرخارجہ سامح شکری سے غزہ میں مستقل جنگ بندی کے علاوہ حماس سے قیدیوں کے تبادلے کے معاملے پر بات چیت کی تھی۔

حماس کے پاس اس وقت 2014ء کی جنگ میں ہلاک ہونے والے دواسرائیلی فوجیوں عورون شاؤل اورحدار گولڈن کی لاشیں ہیں لیکن حماس نے آج تک ان کی موت کی تصدیق نہیں کی ہے۔

اس کے علاوہ اس نے دواسرائیلی شہریوں کو بھی حراست میں رکھا ہوا ہے۔ان دونوں کو غزہ میں داخلے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ان کے خاندانوں کا کہنا ہے کہ وہ ذہنی عارضے میں مبتلا تھے۔ادھراسرائیل کی جیلوں میں اس وقت پانچ ہزار سے زیادہ فلسطینی قید ہیں۔