.

سعودی عرب : موسم گرما میں ٹھنڈا ساحلِ سمندر پورے سال سیاحوں کی توجہ کا مرکز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شمال مغرب میں واقع ضلع حقل میں سمندری ساحل اپنی نرم ریت اور صاف شفاف پانی کے ساتھ پورے سال سیاحوں اور آنے والوں کا استقبال کرتے ہیں۔ یہاں کی پر کشش فضا کے سبب پورے سال لوگوں کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

تبوک میں سیاحتی رہبر عبداللہ زعیر نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "تبوک صوبے کے زیر انتظام یہ ساحل موسم گرما کے دوران میں اپنے ٹھنڈے ساحلوں کی بدولت امتیازی شان رکھتے ہیں۔ حقل کو صحت بخش شہر کا خطاب دیا گیا ہے۔ اس لیے کہ بحر احمر کے ساحل پر واقع ہونے کے باوجود یہاں موسم گرما کے دوران میں نمی نہیں ہوتی۔ گرمی اور سردی دونوں موسموں میں یہاں کی فضا معتدل رہتی ہے"۔

عبداللہ زعیر کے مطابق حقل کے ساحل شکار اور غوطہ خوری کا شوق رکھنے والوں کے لیے بھی پُر کشش مقام ہیں۔ یہاں کا پانی صاف اور شفاف ہے۔ علاوہ ازیں سمندر میں منفرد رنگوں کے مرجانی جل پتھر پائے جاتے ہیں۔ یہاں کی نرم ریت سیاحوں کے لیے پُر کشش عوامل میں سے ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ حقل کے ساحل پر کھڑے ہو کر اردن کے شہر العقبہ ، فلسطین اور مصر کے شہر طابا اور سیناء کی پہاڑیوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔

حقل میں سیاحوں کے لیے پر کشش چیزوں میں Georgios G بحری جہاز شامل ہے۔ بئر الماشی کے ساحل پر موجود اس جہاز کو "سعودی ٹائیٹینک " کا نام دیا جاتا ہے۔

سال 1398 ہجری میں یہ یونانی تجارتی بحری جہاز حقل کے ساحل کے جنوب میں واقع جل پتھر سے ٹکرا گیا تھا۔ اس علاقے میں جل پتھروں کی بہتات ہے جس کے نتیجے میں یہ جہاز ڈوب گیا۔ جہاز کو اسی ساحلی علاقے میں چھوڑ دیا گیا۔ اس روز کے بعد سے آج تک جہاز نے اپنی جگہ سے حرکت نہیں کی۔