.

سعودی عرب میں اساتذہ کی بغیر اجازت تصاویر بنانے کی سزا مقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت تعلیم نے اسکولوں میں طلبا اور طالبات کے لیے ایک نیا ضابطہ اخلاق جاری کیا ہے۔ ضابطہ اخلاق کے وضع کردہ اصولوں کی خلاف ورزی پر تادیبی سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔

وزارت تعلیم کا کہنا ہے کہ اگرطلبا اور طالبات اپنے اساتذہ کی اجازت لیے بغیر تصویر کھینچتے ہیں تو ان کا تدریسی عمل کچھ وقت کے لیے معطل کردیا جائے گا اور انہیں تادیبی سزا کے طور پرسوشل کام کرنا ہوں گے۔

وزارت تعلیم کے مطابق بغیر اجازت اساتذہ کی تصاویر بنانے والے طلبا کو ایک ماہ تک تدریسی عمل سے نکال دیا جائے گا اورانہیں تادیب کے طورپر سماجی کاموں پرمامور کیا جائےگا۔

حال ہی میں وزارت تعلیم کی طرف سے جاری کردہ ضابطہ اخلاق میں ہونے والی سرگرمیوں کی خلاف ورزیوں کو چھ مختلف درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان میں اسکولوں میں ہونے والی خلاف ورزیاں بھی شامل ہیں۔ ان خلاف ورزیوں کی مختلف سزائیں ہیں۔

اس کے علاوہ وزارت تعلیم نے قانون میں سکول انتظامیہ اور تعلیمی انتظامیہ کی طرف سے اٹھائے گئے متعدد اقدامات کی وضاحت کی ہے تاکہ خلاف ورزی کو کنٹرول اور انہیں ریکارڈ پر لایا جا سکے اور خلاف ورزی کرنے والے پر جرمانہ عائد کیا جا سکے۔

ضابطہ اخلاق کی پہلی خلاف ورزی اسکولوں کی اسمبلی کے دوران شرارتوں چھیڑ چھاڑ ، سرکاری لباس نہ پہننے جیسی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔ جبکہ دوسرے درجے میں کمرہ جماعت کے اندر گڑ بڑ کرنا یا کلاس سے فرار ہونا شامل ہے۔

خلاف ورزی کی تیسری غیر اخلاقی نشانات ، نماز کی ادائیگی میں غفلت اور جھگڑوں میں حصہ لینا ہے۔

چوتھی شکل جان بوجھ کر ایک طالب علم کو زخمی کرنا ، اسکول کے اندر سگریٹ نوشی اور غنڈہ گردی شامل ہے۔

پانچویں خلاف ورزی ہتھیاروں اور تیز دھار آلات لانا، اسکول کے اساتذہ یا منتظمین کو دھمکیاں دینا ، یا ان کی معلومات کے بغیر ان کی تصاویر لینا شامل ہیں۔

چھٹی خلاف ورزی میں اسلام کی رسومات کا مذاق اڑانا یا معلوماتی جرائم یا اسکول کے ملازمین یا اساتذہ میں سے کسی ایک پر حملہ کرنا اور دیگر شامل ہیں۔