.

قاہرہ:صدرالسیسی،محمودعباس اورشاہ عبداللہ کا مقبوضہ القدس کی صورت حال پرتبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی صدرمحمودعباس نے قاہرہ میں مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور اردن کے شاہ عبداللہ دوم سے جمعرات کے روز ملاقات کی ہے اور ان سے مقبوضہ بیت المقدس (یروشلیم) کی تازہ صورت حال کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔

فلسطینی خبررساں ایجنسی وفا کے مطابق ’’صدر محمودعباس نے اسرائیلی فوج کے تحفظ اور نگرانی میں یہودی آبادکاروں کی القدس شہرمیں جارحانہ کارروائیوں کی مذمت کی ہے۔‘‘

ان کا اشارہ مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں آباد فلسطینی خاندانوں کے خلاف یہودی آبادکاروں کی حالیہ تشددآمیزکارروائیوں کی جانب تھا۔یہودی آبادکار انھیں صہیونی ریاست کی مشینری کے بل پر شہر سے بے دخل کرانے کے لیے کوشاں ہیں۔

بیان کے مطابق مصراوراردن کے لیڈروں نے صدر محمودعباس کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔فلسطینی لیڈر کے زیرقیادت اتھارٹی اس وقت اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے میں نظم ونسق چلا رہی ہے،اسے محدود خودمختاری حاصل ہے جبکہ غزہ کی پٹی میں ان کی حریف فلسطینی جماعت حماس کی حکومت ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل کی عدالت عظمیٰ نے اسی ہفتے مقبوضہ بیت المقدس کے محلے شخ جراح سے چار فلسطینی خاندانوں کی بے دخلی سے متعلق اپنے حکم کا اعلان مؤخر کردیا ہے۔یہودی آبادکاروں نے ان فلسطینی خاندانوں کو ان کے آبائی مکانوں سے بے دخل کرانے کے لیے عدالت عظمیٰ میں مقدمہ دائر کررکھا ہے۔

یادرہے کہ اسرائیل نے 1967ء میں چھے روزہ جنگ کے دوران میں مشرقی القدس پرقبضہ کرلیا تھا۔یہ مقدس شہر پہلے اردن کا حصہ تھا اور اسی کا اس پر کنٹرول تھا۔اسرائیل نے بعد میں اس شہر کو صہیونی ریاست میں ضم کرلیا تھا لیکن امریکا کے سواعالمی برادری اس کے اس اقدام کو تسلیم نہیں کرتی ہے اور اس کے مقبوضہ بیت المقدس کو ہتھیانے کے لیے اقدامات کوغیرقانونی قرار دیتی ہے۔فلسطینی یروشلیم کو مستقبل میں قائم ہونے والی اپنی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔یہ مجوزہ ریاست غرب اردن اور غزہ کی پٹی پر مشتمل ہوگی۔