سعودی عرب کے صوبے عسیر میں ہونے والے پرفارمنگ آرٹس کی اقدار کے میلے میں روایتی عوامی ملبوسات نے "عسیری ورثے" کو بھرپور انداز سے پیش کیا ہے۔ اسی طرح "یادگاری تحائف" جو صوبے کی شناخت کے حامل ہوتے ہیں۔
میلے میں شریک خاتون "امل ابراہیم" کے مطابق انہوں نے عسیر کے معروف لباس کے ساتھ یادگاری تحائف کی تیاری سے کام شروع کیا تھا۔ بعد ازاں برف کی گیند اور مقناطیسی فن پارے بھی متعارف کرائے۔ میلے میں آنے والے افراد کی جانب سے ان اشیاء کو بھرپور پذیرائی ملی۔ سرگرمیوں اور میلوں میں شرکت سے مقامی تیار کردہ مصنوعات کے پھیلاؤ میں بڑی مدد ملی اور صوبے کے بیرون فروخت کے لیے ایجنٹ میسر آ گئے۔
علاوہ ازیں برقعوں، اسکارفوں اور فر سے تیار کردہ ملبوسات کے ذریعے "عسیری پوشاک" نمایاں ہوئی۔ سعودی خاتون ڈیزائنر سالمہ عبدالرحمن کہتی ہیں کہ وہ 10 برس سے عسیری ملبوسات ڈیزائن کر رہی ہیں۔ وہ جنوبی علاقے کے ملبوسات اور ثقافتی ورثے میں دل چسپی رکھتی ہیں۔ سالمہ نے مملکت کے اندرون کے علاوہ بیرون ملک بھی نمائندگی کی۔
آخری مرتبہ انہوں نے اطالیہ کے شہر میلان میں ہونے والے "ارتیگانو" میلے میں سعودی عرب کی نمائندگی کی تھی۔ ان کی ڈیزائن کردہ اشیاء میں اسکارف، بیگز، پرس، عسیری بلی اور رومال وغیرہ بھی شامل ہیں۔ سالمہ کے مطابق وہ اپنی مصنوعات میں اعلی معیار کا خام مال استعمال کرتی ہیں۔
ماضی میں عسیری لباس صرف بڑی عمر کی خواتین کو بھاتا تھا تاہم اب نئے ڈیزائنروں کی جدت سے مقامی ملبوسات کو نوجوان خواتین کی بھی بھرپور پذیرائی اور توجہ حاصل ہو رہی ہے۔ سالمہ نے بتایا کہ اب مختلف مواقع پر ان ملبوسات کی مانگ بڑھ گئی ہے۔ ان میں شادی کی تقریبات ، نجی قومی تقریبات اور عید کے تہوار وغیرہ شامل ہیں۔
-
عسیر کے علاقے سے موسیقی کے فنون جمع کرنے کا منصوبہ
سعودی عرب میں تھیٹر اینڈ پرفارمنگ آرٹس اتھارٹی کے چیئرمین سلطان البازعی نے العربیہ ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب : عسیر صوبے میں قدیم قبروں کے آثار دریافت
سعودی فوٹوگرافر فارس طیران نے مملکت کے صوبے عسیر کے ضلع البرک میں واقع بعض ایسے ...
مشرق وسطی -
سعودی ولی عہد کا عسیر ریجن کو عالمی سیاحت کا مرکز بنانے حکمت عملی کا اعلان
عسیر کی ترقی سے نئی جاب مارکیٹ اور سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا
ایڈیٹر کی پسند