بیت المقدس میں تشدد کا سلسلہ جاری، اسرائیلی حکومت کو نئی تقسیم کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیل میں حکومتی اتحاد کو کل اتوار کے روز اُس وقت ایک نئی تقسیم کا سامنا کرنا پڑا جب "یونائیٹڈ عرب لِسٹ "الموحدہ" نے حکومت کے لیے اپنی حمایت کو معلق کر دیا۔ یہ فیصلہ مسجد اقصٰی اور اس کے اطراف پر تشدد واقعات جاری رہنے اور 170 افراد کے زخمی ہونے کے باعث کیا گیا۔

اس سے قبل اسرائیلی حکومت رواں ماہ پارلیمنٹ میں ایک سخت گیر یہودی خاتون رکن کے مستعفی ہونے کے نتیجے میں اپنی معمولی سی اکثریت کھو بیٹھی تھی۔

حکومتی اتحاد میں مختلف نظریات کی حامل بائیں بازو کی ، سخت گیر یہودی قوم پرست اور مذہبی جماعتوں کے علاوہ عرب یونائیٹڈ لسٹ "الموحدہ" شامل ہے۔

مسجد اقصی اور اس کے اطراف بیت المقدس میں تین روز سے جاری پر تشدد واقعات نے الموحدہ پر اس بات کا سیاسی دباؤ ڈالا کہ وہ حکمراں اتحاد سے نکل جائے۔

اتوار کی شام جاری ایک بیان میں الموحدہ نے عندیہ دیا کہ حکومت کی جانب سے بیت المقدس اور اس کے مکینوں کے خلاف ظالمانہ اقدامات کا سلسلہ جاری رہا تو ہم اجتماعی طور پر مستعفی ہو جائیں گے۔

اسرائیلی پولیس اور فلسطینیوں کے درمیان جاری جھڑپوں میں تین روز میں 150 فلسطینی اور 20 اسرائیلی زخمی ہو چکے ہیں۔

فلسطینی باشندے یہودیوں کی "جبلِ ہیکل" کے مقام پر زیارتوں کو دھاوے کی کارروائی شمار کرتے ہیں۔

ادھر مسجد اقصی کے ڈائریکٹر شیخ عمر الکسوانی نے مسجد کے اندر ، اس کے صحن اور اس کے بیرون کی صورت حال کو آفت زدہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ اسرائیلی اسپیشل فورس کے 200 سے زیادہ اہل کاروں نے مسجد میں نمازیوں پر دھاوا بول کر انہیں بزور طاقت باہر نکال دیا۔ مزید یہ کہ لاؤڈ اسپیکروں کے تار بھی کاٹ دیے گئے۔

دوسری جانب ویٹی کن میں پوپ فرانسس نے ایسٹر کے موقع پر اتوار کے روز کہا کہ بیت المقدس میں مقدس مقامات پر "آزادانہ" داخلے کو یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم بیت المقدس کی خاطر امن کا مطالبہ کرتے ہیں اور بیت المقدس سے محبت رکھنے والے مسیحی ، یہود اور مسلمانوں کی خاطر امن چاہتے ہی"۔ پوپ نے تمام فریقوں کے حقوق کے متبادل احترام پر زور دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں