متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان آزاد تجارت کے معاہدے پر دستخط ہوگئے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان اس معاہدے پر دستخط دبئی میں ہوئے۔
آج منگل کو متحدہ عرب امارات میں اسرائیلی سفیر امیر حائیک نے کہا کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ کسی عرب ملک کا صہیونی ریاست کے ساتھ یہ اپنی نوعیت کا پہلا معاہدہ ہے۔
حائیک نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ "ٹویٹر" پردونوں ملکوں کو معاہدے پر "مبارکباد" دی اور ساتھ ہی انہوں نے معاہدے کی دو کاپیاں بھی پوسٹ کیں جن میں دونوں ملکوں کے وفود کو دستخطی تقریب میں دیکھا جا سکتا ہے۔
اس معاہدے پر اسرائیل کے وزیر اقتصادیات اور صنعت اورنا باربیوائی اور متحدہ عرب امارات کے وزیر اقتصادیات عبداللہ بن توق المری نے دستخط کیے۔
متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ تجارت ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی نے ’ٹویٹر‘ پر کہا کہ"اسرائیل اور امارات میں جامع اقتصادی شراکت داری کا معاہدہ ابراہیمی امن معاہدوں کے ذریعے قائم کی گئی مضبوط بنیادوں پر مبنی ہے۔ یہ معاہدہ تیل کے سوا دیگر شعبوں میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کے فروغ کا باعث بنے گا اور آئندہ پانچ سال کے دوران اس معاہدے کا تجارتی حجم سالانہ دس ارب ڈالر ہوگا‘‘۔
Today we signed a Comprehensive Economic Partnership Agreement with #Israel that builds on the strong foundations laid by the Abraham Accords. It will push the value of our non-oil bilateral trade beyond $10 billion within five years. 🇦🇪🇮🇱 pic.twitter.com/j5g1Q30eI4
— د. ثاني الزيودي (@ThaniAlZeyoudi) May 31, 2022
انہوں نے ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل مشرق وسطی کی تاریخ میں ایک نیا باب لکھ رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مضبوط بنانے، ترقی کا عمل تیز کرنے اور خطے میں امن اور خوشحالی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
دوسری طرف اسرائیل میں اماراتی سفیر محمد آل خجا نے ’ٹویٹر‘ پر کہا کہ جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدے پر دستخط ایک ’عظیم‘ کامیابی ہے، کیونکہ اس سے کمپنیوں کو براہ راست منڈیوں تک رسائی حاصل ہوگی اور دونوں ملک ایک دوسرے کی مصنوعات پر کسٹم ڈیوٹی میں کمی سے فایدہ اٹھائیں گے۔
Mabruk !!! 🇮🇱🕊🇦🇪 pic.twitter.com/Uf1DcEpNBb
— Ambassador Amir Hayek (@HayekAmir) May 31, 2022
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس معاہدے کے ذریعے سرمایہ کاری بڑھانے، ملازمتیں پیدا کرنے اور موسمیاتی اور غذائی تحفظ کے لیے کوششوں کو مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام کریں گے۔"
اسرائیلی وزارت اقتصادیات نے پیر کو کہا تھا کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات منگل کو دبئی میں آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کریں گے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو فروغ دینا ہے۔
#UAEIsraelCEPA is an unprecedented achievement. Businesses in both countries will benefit from faster access to markets and lower tariffs as our nations work together to increase trade, create jobs, promote new skills and deepen cooperation. Thank you Ohad Cohen for your efforts! pic.twitter.com/NIaLFp30L8
— Mohamed Al Khaja (@AmbAlKhaja) May 31, 2022
وزارت اقتصادیات نے مزید کہا کہ خوراک اور زرعی مصنوعات، کاسمیٹکس، طبی آلات اور ادویات سمیت 96 فیصد مصنوعات پر کسٹم ڈیوٹی منسوخ کر دی جائے گی ۔
اسرائیلی وزارت اقتصادیات نے گذشتہ اپریل کو اعلان کیا تھا کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے آزاد تجارتی معاہدے پر بات چیت مکمل کر لی ہے۔
اس وقت ایک بیان میں اسرائیلی وزارت تجارت نے طے پانے والے معاہدے کو "جامع اور اہم" قرار دیا اور وضاحت کی کہ اس میں ضوابط، کسٹم، خدمات، سرکاری خریداری اور ای کامرس شامل ہیں۔
خیال رہے کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل نے دو سال قبل سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے امن معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ ابراہیمی معاہدے کے نام سے مشہور ہونے والے سا معاہدے میں خلیجی ریاست بحرین، مراکش اور سوڈان بھی اسرائیل سے معاہدے کر چکے ہیں۔
-
سعودی عرب کے ساتھ معمول کے تعلقات ایک ’طویل، محتاط عمل‘ہے:اسرائیلی وزیرخارجہ
اسرائیل امریکا اورخلیجی ممالک سے مل کرسعودی عرب کے ساتھ تعلقات کومعمول پرلانے کے ...
مشرق وسطی -
’’پاکستانی وفد نے دو ہفتے قبل ملاقات کی تھی‘‘ اسرائیلی صدر کا دعویٰ؟
اسلام آباد دفتر خارجہ نے کسی پاکستانی وفد کے دورۂ اسرائیل کے تاثر کو مسترد کر دیا
بين الاقوامى -
ایران کے’استثنا‘ کا دورختم ہوچکا ہے: اسرائیلی وزیراعظم
دہشت گردوں کے مالی معاونین، مسلح کرنے والوں اور بھیجنے والوں کو پوری قیمت چکانا ...
مشرق وسطی